ڈاکٹر فائی کاتجدید عہد

ڈاکٹر فائی کاتجدید عہد

شکیل احمد ترابی

کوئی منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم کرے یا اُسے دہشت گرد قرار دے22 نومبر 2013 ء کو امریکی جیل سے رہائی کے بعد اس نے ایک بار پھر عہد کیا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا ۔ غلام نبی فائی کا کشمیر میں جینا مُحال بنا دیا گیا تھا اُس کا جرم یہ تھا کہ 1979 ء میں اُس نے اِمام کعبہ کو کشمیر کا دورہ کرایا تھا ۔ اِمام کعبہ نے اپنے دورہ میں مختلف کانفرنسوں سے خطاب میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار داد نمبر 47 جو کہ 21 اپریل 1948 ء کو منظور کی گئی تھی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا ۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ استصواب رائے کے تحت کشمیریوں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ کریں کہ انہوں نے پاکستان یا بھارت میں سے کِس کے ساتھ رہنا ہے ۔ اِمام کعبہ کے کشمیر میں خطبات کے دوران نہ کِسی پر پتھر پھینکا گیا نہ کوئی کھڑی ٹوٹی اور نہ ہی کوئی جلاؤ گھیراؤ ہوا ۔ مگر مسلمانوں کے ایک ایسے رہنما جس کی شخصیت پر کِسی کو کوئی اعتراض نہیںکی جانب سے قرار داد پر عمل درآمد کے مطالبے نے بھارتی سرکار اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کے لیے بے پناہ مسائل کھڑے کر دئیے ۔ اِمام کعبہ کا یہ دورہ تاریخی لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتا تھا ۔ اِمام کے دورہ نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھُونک دی ۔ بھارتی سرکار اچھی طرح جان چُکی تھی کہ اُسے اِس ہزیمت کا شکار بنانے والا کون ہے ۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت کابینہ کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں بھارت و کٹھ پتلی حکومت کو درپیش چیلنجز کا جائزہ اور آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ۔ ’’ کشمیر کے اندر انقلاب ‘‘ کا الزام ڈاکٹر غلام نبی فائی پر دھرا گیا اور ان کے لیے کشمیر کی زمین تنگ کر دی گئی ۔ ڈاکٹر فائی جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دئیے گئے ۔ پہلے وہ سعودی عرب منتقل ہوئے بعد ازاں اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ امریکہ میں رہ کر کشمیریوں کا مقدمہ بہتر طور پر لڑ سکتے ہیں ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر غلام نبی فائی نے ٹمپل یونیورسٹی پنسلوانیا امریکہ سے ابلاغیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اِس دوران وہ امریکی شہری بھی بن گئے ۔ 1990 ء میں اُنہوں نے کشمیری امریکن کونسل کی بنیاد رکھی ۔ غیر منافع بخش تنظیم نے سینکڑوں کانفرنسیں ، احتجاجی مظاہروں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ذریعے ’’ کشمیر کا مقدمہ ‘‘ دنیا بھر کے سامنے پیش کیا ۔ گزشتہ 35 سالوںمیں کشمیر کے اندر اُن کے کئی پیارے دارِ فانی سے کوچ کر گئے ، غلام نبی فائی اپنے عزیزوں کے جنازوں میں شریک ہو سکے نہ ان کا آخری دیدار کر سکے ۔مگر اُن کا یہ ملال انہیں ایک دن بھی جدوجہد آزادی سے کشمیر سے روک نہ سکا،بلا کے ذہین انسان سے متعلق ممتاز کشمیری راہنما امان اﷲ خان کہتے ہیں کہ ’’ فائی لوہے کا بنا انسان ہے جس کے ہاں نہ تو دنیاوی لالچ ہے اور نہ آرام ، وہ ہر لمحے تحریک آزادی کشمیر میں جُتا رہتا ہے ‘‘۔ امان اﷲ خان کہتے ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کی خوش بختی ہے جس کو ایسے راہنما ملے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی ۔امریکی جو اپنے سیٹلائٹ سسٹم اور اپنی خفیہ ایجنسیوں پر ہر وقت نازاں رہتے ہیں ایسے بے خبر ہو سکتے تھے کہ وائٹ ہاؤس سے پیدل پانچ منٹ کی مسافت پر واقع ’’ کشمیری امریکن کونسل ‘‘ کے دفتر میں ایک شخص امریکن قانون توڑتا رہے اور اُنہیں خبر بھی نہ ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کے وکیل پاکستان کے نصیب میں قائد اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے بعد بہادر حکمران نہ آ سکے جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں ۔ کشکول توڑ کر بڑی قوتوں کو بتا سکیں کہ ہمارے بھی کوئی ریاستی قوانین ہیں ۔ امریکی پریشر پر ہم نے پاکستان کو بمبستان میں تبدیل کر دیا مگر اس کی ہوس پوری ہونے کو نہیں آ رہی ۔ امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس دن دیہاڑے پاکستانیوں کو قتل کر دیتا ہے ۔ پہلے ہمارے ادارے معاملے کو انتہا پر لے جاتے ہیں اور امریکہ کے خلاف پاکستانی قوم میں نفرت عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔مگر اُس کی رہائی کے بعد قوم کی امیدوں پر اُوس پڑ جاتی ہے ریمنڈ ڈیوس کے بعد پاکستان کے غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے پاکستان یہ مطالبہ پورا نہیں کرتا تو مارچ 2011 ء میں ڈاکٹر غلام نبی فائی پر منی لانڈرنگ اور معلومات چھپانے کا مقدمہ قائم کر کے پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کیا جاتا ہے ، بھارتی ذرائع ابلاغ جو موقع کی تاک میں ہوتے ہیں کی توپوں کے دھانے ایک بار پھر پاکستان و تحریک آزادی کشمیر کی طرف مڑ جاتے ہیں ۔ زہریلا پروپیگنڈہ کرنے والے ابلاغی ادارے بھول جاتے ہیں کہ ڈاکٹر فائی کا جرم تو بس اتنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا تھا ۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی پر لگنے والے الزامات کی طرح بھارت میں انسانی حقوق کی عظیم راہنما ، کئی کتابوں کی مُصنفہ اُرون دتی رائے جن کو بہترین کتاب لکھنے پر انعام سے بھی نوازا گیا ہے کو بھی بھارتی سرکار کی جانب سے 2009 ء میں غداری جیسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ’’عظیم جمہوریہ‘‘کی عدالت کی جانب سے اُن پر جب مقدمہ قائم کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تو انہوں نے ایسا سوال اٹھایا کہ جس کا جواب بھارتی نیتاؤں کے پاس نہیں ہے ۔ اُرون دتی رائے نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بات کرنا جرم ہے تو یہ مقدمہ میرے نہیں بھارتی وزیر اعظم پنڈت لال جواہر نہرو پر قائم ہونا چاہیے ۔ نہرو یہ مقدمہ اقوام متحدہ لے کر گئے تھے جس پر قرار دادمنظور ہوئی تھی ۔ نہرو نے بھارتی قانون ساز اسمبلی میں 25 نومبر 1947 کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ہمیں بغیر کِسی حیل و حجت کے اقوام متحدہ یا کوئی اور بین الاقوامی ٹریبونل بنے تو اُس کے ذریعے کشمیروں کی منشاء کے مطابق اُنہیں رائے دہی کا موقع دینا چاہیے ‘‘ ۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے نام ٹیلی گرام میں بھی پنڈت نہرو نے کہا تھا کہ ’’ ہم بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ متنازعہ علاقے کا مسئلہ وہاں کے لوگوں کی مرضی اور منشاء کے مطابق حل کرنا چاہیے ‘‘ ۔ اُرون دتی رائے بھارت کے اندر ’’ بھارتی جمہوریہ ‘‘ کا پردہ چاک کر کے اُن کے اصل چہرے دنیا کو دکھاتی رہتی ہیں ۔ یہی جرم ڈاکٹر غلام نبی فائی کا ہے جس کا وہ مرتکب ہوا ہے ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ اور بعض پاکستانی خود ساختہ دانشور جنہیں ’’ کشمیر بوجھ ‘‘ محسوس ہوتا اور جو ڈاکٹر فائی کی گرفتاری پر پُھولے نہیں سما رہے تھے کے لیے عرض ہے کہ امریکی عدالت نے ڈاکٹر فائی کے شاندار کردار پر انہیں ایک سال قبل بقیہ سزا معاف کر کے رہا کر دیا ہے امریکی جج نے یہ بھی کہا کہ کشمیری قوم کا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر لڑنے پر ڈاکٹر فائی خراج کے مستحق ہیں ۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی جیسے لوگوں ہی کے لیے ڈاکٹر اقبال رحمۃ اﷲ علیہ نے کہا تھا کہ

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

Archives