’’رحمان کی راہ یا شیطان کی ‘‘

’’رحمان کی راہ یا شیطان کی ‘‘

شکیل احمد ترابی

برگزیدگی کی انتہائوں پر ہونے کے سبب اسے اللہ کا بہت قرب حاصل تھا،عزازیل اسکا نام تھا۔ایک ’’نہ‘‘ نے اسے عزازیل سے شیطان،ابلیس اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا۔حضرت حسن بصریؒ بیان کرتے ہیں کہ عزازیل نے سات سے زیادہ جنتوں میں ستر ہزار سال اللہ کی عبادت کی تھی،تب اسے رضوان کے مقام پر فائز کیا گیا تھا۔رضوان بہت اعلیٰ مقام ہے۔ رضوان کے معنی ہیںکہ جنتوں کا نگران اور سرپرست۔عزازیل اس مقام پرایک ہزار سال تک فائز رہا۔مگر جب اس نے آدم علیہ السلام کو اللہ کے حکم پر سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو عظمت سے پستیوں میں جاگرا۔رب ذوالجلال سے اس نے کہا کہ جس طرح تو نے مجھے دھوکا دیا اب تو مجھے بھی اس بات کا اختیار دے میں تیرے بندوں کو تیری راہ سے بہکاتا رہوں۔قادرالمطلق نے اسے اس امر کی اجازت دیدی۔ تب سے تاقیامت یہ سلسلہ چلتا رہے گا وہ بندوں کو خدا کی راہ سے بھٹکاتارہے گا۔اکثر و بیشتر ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں اور کوئی کام شروع کرنے سے پہلے اللہ کی پناہ حاصل کرتے ہیں۔حج کے موقع پر ایک عجیب منظر بپا ہوتا ہے رمی جمار کے مقام پر مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے۔کنکریوں کے ساتھ بعض لوگ مزید اظہار نفرت کے لئے جمرات پر اپنے جوتے تک اتار کر اس پر پھینکتے ہیں۔نسائی میں نبی کریم ﷺ کا فرمان موجودہے کہ رمضان کے مہینے میں آسمان (یعنی جنت)کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں۔مسلمانوں کی اکثریت روزے اور دیگر عبادات میں مشغول رہتی ہے ۔یہ ایک مہینہ تربیت کا ذریعہ بننا چاہیے کہ اس دوران ہم نے جو تزکیہ،تقویٰ اور نیکی حاصل کی یا سیکھی اس کی بقیہ سال میں مشق کرنی ہے ۔بعض بد نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے لیے یہ ماہ نیند،بھوک اورپیاس کے سوا کچھ نہیں لاتا۔رحمتوں سے ہم اپنا دامن بھر نہیں پاتے ۔پورا دن روزے سے رہتے ہیں اور رات کا طویل دورانیہ جاگ کر عبادت میں گزارتے ہیں۔روزے کا مقصد تو تقویٰ یعنی خدا خوفی بیان کیا گیا ہے۔قربان جائوں فرزند خطاب سیدنا عمرؓ پر جنہوں نے تقویٰ کی تعریف کچھ یوں بیان کی ہے کہ جیسے ایک انسان خار دار جھاڑیوں سے گزرتے ہوئے اپنے تہبند(لباس)کو یوں سمیٹ کرچلتا ہے کہ اس کا لباس کسی کانٹے یا جھاڑی میں الجھ نہ جائے ۔خدا خوفی تو یہ ہے کہ انسان کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اور کسی عمل کو کرنے سے قبل اس بات کا خیال کرے کہ اس کے نتیجے میں، میں اللہ کی قربت حاصل کروں گا یا اس کے غضب سے دوچار ہوں گا۔وہ یہ سوچے کہ اس کا عمل محض انسانوں کو خوش کرنا ہے یا وہ اس کا اجرا اپنے رب سے پانے کا متمنی ہے۔رحمتوں،بخششوں اور آتش جہنم سے نجات کا مہینہ ایک بارپھر ہم سے الوداع ہو گیا۔دنیا میں کسی محتسب اعلیٰ اورآخرت میں اللہ کے حساب سے قبل ہم اپنے اعمال کی زنبیل کھول کر دیکھیں کہ ہم نے ابدی دنیا کے لیے کیا بھیجا ہے ۔اس مہینے میں سجدوں پرزور رکھا ،دفتر بروقت پہنچے یا آدھا دن گزارکے؟جس منصب پر فائز ہیں اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کے مسائل حل کئے یا ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے؟۔امام رازی نے اس دنیا کی بے ثباتی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ زندگی برف کی مانند ہے جو مسلسل پگھلے جا رہی ہے۔برف فروش جب پگھلتی برف کی جانب نگاہ دوڑاتا تھا اس کی سانس گھٹنے لگتی تھی اور وہ پکار اٹھتا تھا کہ رحم کرو اس پر جس کا سرمایہ گھلا جا رہا ہے امام رازی نے فرمایا تھا کہ زندگی بھی برف کی مانند ہے جو تیزی سے پگھلتی جا رہی ہے قبل اس کے کہ تمہارا خاتمہ ہو جائے آخرت کیلئے متاع جمع کر لو۔کیسے بد نصیب ہیں ہم مسلمان جو تعداد میں سوا ارب سے زائد مگر چند لاکھ یہودیوں کے پنجہ استبداد سے اپنے قبلہ اول کو آزاد نہ کرا پائے ،یہود اور اس کے سرپرست نصاریٰ نے اس ماہ مبارک میں بھی میرے رسول کریم ﷺ کی امت پر غزہ میں جینا محال کر دیا دودھ پیتے بچوں تک کو ذبح کر دیا گیا ۔ایک ایران کے وزیر خارجہ فقط ایران کو توفیق حاصل ہوئی کہ جس نے فلسطین کے انتفادہ کے سب سے بڑے گروہ حماس کے جری سربراہ جناب خالد مشعل کو فون کر کے اپنے ملک کی جانب سے ہر طرح کی حمایت کا یقین دلایا ۔اتنے بڑے بڑے شاہ اوران کے مملکتیں،تیل کے سمندر ان کے، مگر دنیا کی محبت نے ان کو ایمان کے تقاضوں سے نابلد کر دیا۔پاکستان کے سابق وفاقی وزیر کی سوشل میڈیا پر آج کل کردار کشی کی مہم زوروں پر ہے وہ بیت اللہ کی جانب پائوں کر کے مسجد الحرام میں استراحت فرما رہے تھے۔ان کے کسی ’’بہی خواہ‘‘ نے یہ منظرویڈیو میں محفوظ کر لیا۔ویڈیو کو دھڑا دھڑ جہاد سمجھ کر ہر ایک اپنے اپنے سوشل میڈیاز کے صفحات پر چسپاں کر رہا ہے ہزاروں تبصرے ہو چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔جمعتہ الوداع کے موقع پر اسلام آباد کی ایک مسجد کے خطیب صاحب نے من بہاتی کہی اگرچہ بیت اللہ کی جانب قدم پھیلانا احسن نہیں مگر اسے کسی جگہ شریعت نے ممنوع قرار نہیں دیا ۔حضورﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر کہا کہ بلالؓ بیت اللہ کی چھت پر چڑھ کر باآواز بلند اذان دو۔اگر چھت پر چڑھنا برائی نہیں تو قدم اس جانب نادانستگی سے کر لینا کیسے جرم عظیم بن گیا ؟ خطیب صاحب نے کہا کہ عوام ہوں،حکمران یا جج جو بیت اللہ کی بہت تکریم کرتے ہیںکیا کبھی انہوں نے اس بات کا خیال کیا کہ اس بیت اللہ کے مالک اوراس کے پیغمبرﷺ کے فرامین کو نعوذ بااللہ ہم دن میں کتنی بار پائوں کے نیچے روندتے ہیں۔جس قرآن اور حدیث کی کتابوں کو ہم بار بار چومتے ہیں کبھی خیال کیا کہ اس کے اندر موجود احکامات کا ہم کیا حشر کرتے ہیں؟ مولانا نے کہا کہ بدبختی کی انتہاء ہے کہ پاکستان میں آگ لگی ہے،غزہ میں مسلمان بچے اور خواتین تک گاجر مولی طرح کاٹے جا رہے ہیں اورہمارے جناب قادری اور عمران خان ان سے اظہار یکجہتی کی بجائے تخت گرانے اور کسی ’’اور‘‘کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے دھرنوں اور مارچ کے اعلانات کر رہے ہیں ۔مولانا کی تقریر کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے جسم پرکپکپی طاری ہو گئی ہے کہ انتہائی غیر معمولی حالات میں بھی ہمارے ارباب بست و کشادکے رویے سنجیدگی اختیار نہ کر سکے وہ بھی کیا دور تھا کہ حج سے فراغت کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق ؓ درا ہاتھ میں تھام کر بیت اللہ کے قرب و جوار میں نکل جاتے تھے ۔عام آدمی سے باالعموم اورعمال حکومت سے باالخصوص تیسرے چوتھے دن پوچھتے تھے کہ یہاں کیوں رکے ہوئے ہو۔اگر کوئی عذر یا اہم مصروفیت سے متعلق جواب دیتا تو آپؓ خاموشی اختیار کر لیتے دوسری صورت میں درا لہرا کر کہتے اٹھو ابھی اپنے مقام کی جانب لوٹ جائو اور واپس پہنچ کر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرو۔قلمکار سوچتا رہ گیا کہ احساس ذمہ داری کا وہ کیا اعلیٰ مقام تھا اور اب غیر سنجیدگی کی کیا انتہاء ہے کہ ہمارے حکمران ،اراکین پارلیمنٹ اورنوکر شاہی کے لوگ اعتکاف اور کئی دن تک مسجد نبوی کی زیارتیں ختم کرنے کا نام نہیں لے رہے ۔بد قسمتی کا اس بڑا کیا مقام ہوگا کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی بجائے دفاتر میں دن کا ایک طویل دورانیہ گپ بازی میں گزار دیتے ہیں اور دیندار طبقہ نماز کے اوقات میں جماعت سے بہت پہلے مسجدوں میںجاکر بیٹھ جاتا ہے اور لوگ دفتروں میں ذلیل و رسوا ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک طبقہ غیر ذمہ داری کا شکار ہے اوردوسرے نے دین کے لبادے میں غیرذمہ داری کا رویہ اختیار کر کے پاکستان کو تباہی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم نے اس مقدس مہینے میں ایمان اوراحتساب کے ساتھ وقت گزارا یا محض بھوکے پیاسے رہے اور دکھلاوے کی بڑی بڑی افطار پارٹیاں کرتے رہے۔ ہمارے سامنے رحمان کی دکھلائی راہ بھی موجود ہے اور شیطان کا بہکاوا بھی، فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہماری کاوش محض اس دنیا کی آسودگی یا آخرت کی کامیابی کے لیے ہے؟

Archives