نواز شریف مائنس فارمولا قبول نہیں ہے ، سینیٹر اسحاق ڈار

نواز شریف مائنس فارمولا قبول نہیں ہے ، سینیٹر اسحاق ڈار

اسلام آباد(ثناء نیوز) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سے استعفی مانگنا غیر آئینی ہے، نواز شریف مائنس فارمولا قبول نہیں ہے ، ملکی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا ایک طرف ہم شمالی وزیرستان میں جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف دھرنوں اور مارچوں کا ڈرامہ کیا جا رہا ہے ۔ داسو ڈیم کی فنڈنگ کے لئے عالمی بینک کے ساتھ اسی ماہ معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے ۔ بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لئے روپے کی قیمت کسی صورت گرنے نہیں دیں گے ۔ پاکستانی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے دھرنوں کے ڈرامے کے ذریعے اس متاثر نہ کیا جائے ۔ دھرنوں اور مارچوں کا سب سے زیادہ نقصان ملک اور معیشت کو ہو گا ۔ گزشتہ مالی سال میں برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ کم ہوا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مالی سال 2013-14 کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 4.14 فیصد رہی ہے ۔ فی کس آمدن جو مالی سال 2012-13 میں 1340 ڈالر فی کس تھی 2013-14 میں 3.43 فیصد اضافے کے ساتھ 1386 ڈالر ہو گئی ہے ۔ صنعتی شعبے میں ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہی ہے ۔ غربت کی شرح جو 5 سال پہلے 12 فیصد تھی 8.62 فیصد پر آ گئی ہے انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف یونیو نے 2012-13 جو ریونیو جمع کیا تھا اس کے مقابلے میں 2013-14 میں 16.44 فیصد اضافے کے ساتھ 1946 ارب روپے جمع کئے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں خسارہ 8.2 فیصد تھا کم ہو کر 5.7 فیصد رہ گیا ہے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2012-13 میں ترقیاتی منصوبوں پر 425 ارب روپے خرچ کئے گئے اس میں 22.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اسحاق ڈار نے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستانیوں نے 15.3 ارب ڈالر پاکستان بجھوائے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے ۔ برآمدات 2.73 فیصد اضافے کے ساتھ 25.13 ارب ڈالر ہو گئی ہیں تجارتی خسارہ جو مالی سال 2012-13 میں 20.49 ارب ڈالر تھا کم ہو کر 19.98 ارب ڈالر پر آ گیا ہے حکومت کے سٹیٹ بینک سے قرضوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی ہے یہ قرضے جو گزشتہ مالی سال 2012-13 میں 1446 ارب روپے تھے کم ہو کر 303 ارب روپے ہو گئے ہیں نجی شعبوں کو 378 ارب روپے کی مدد دی گئی ہے جبکہ زراعت کے شعبے کو 500 ارب روپے دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح 3.7 فیصد سے بڑھ کر 4.14 فیصد ہوگئی ہے مارکیٹ کیپٹل 5.04 ٹریلین ڈالر سے 7 ٹریلین ڈالر ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور ہم اہم معاشی اشاریوں کو حاصل کر رہے ہیں سب کو ہماری مدد کرنی چاہئے پاکستان کے پاس بے پناہ مواقع موجود ہیں ہم نے من حیثیت القوم ملک کو مضبوط بنانا ہے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 14.13 ارب ڈالر ہو چکے ہیں جن میں سے سٹیٹ بینک کے پاس 9.096 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 5.017 ارب ڈالر ہے ۔ یہ ذخائر ستمبر تک 15 ارب ڈالر ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ غربت کی تعریف کے مطابق پاکستان کی آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے نچلے طبقے کی سپورٹ کے لئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ 53 لاکھ خاندانوں کی مدد کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹوجی اور تھری جی سپیکٹرم کی نیلامی سے 120 ارب ڈالر حاصل ہوئے ابھی مزید سپیکٹرم کی بولی موجود ہے جس سے 79 ارب ڈالر حاصل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قیمت کو کسی صورت گرنے نہیں دیں گے تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔ پاکستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جس نے اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری شائع کی ہے اس روایت کو سالانہ بنیادوں پر جاری رکھیں گے ۔ پاکستان مناسب وقت پر اسلامک بنکنگ کے فروغ کے لئے سکوک جاری کر ے گا اور اسلامک بنکنگ کی طرف جائیں گے ہم کچھ بنکوں کے ہاتھوں یرغمال نہیںبنیں گے انہوں نے کہا کہ تمام عالمی ادارے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں داسو ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے عالمی بنک کے ساتھ اسی ماہ معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے جبکہ اس منصوبے کے لئے باقی فنڈز کا انتظام بھی کر لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موڈیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ میں مزید اضافہ ہو گا لیکن اگر ملک میں عدم استحکام پیدا ہو تو ریٹنگ کم ہو سکتی ہے ہم نے کسی ملک سے امداد نہیں مانگی ایک دوست ملک نے غیر مشروط طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر تحفے میں دیئے ہیں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4500 میگاواٹ ہے ۔ 6900 میگاواٹ کے منصوبے آئندہ 2 سے 3 سال میں پیداوار شروع کر دیں گے جبکہ اس کے علاوہ 9 ہزار میگاواٹ کے مزید منصوبوں پر کام جاری ہے ملکی معاشی ترقی کی رفتار کے مطابق ہمیں 2400 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہو گی ۔ توانائی بحران کی وجہ سے قومی آمدن پر دباؤ پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ بجلی کے 500 ارب روپے کے بقایا جات وصول کریں گے ۔ 300 ارب روپے آسانی سے وصول کئے جا سکتے ہیں ۔ ہم نے اس وقت 263 ارب روپے آئی پی پیز کو ادا کرنے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سوئس بنکوں میں پر’ پاکستانی دولت کی واپسی کے لئے کابینہ نے منظوری دے دی ہے چیئرمین ایف بی آر کی سربراہی میں ہماری ٹیم اسی ماہ سوئس حکام سے مذاکرات شروع کرے گی ۔ انہوں نے عمران خان اور طاہر القادری کے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی آئین کے مطابق بات کرنی چاہئے تو ٹھیک ہے اس طرح کے ڈرامے نہیں کرنے چاہئیں تمام سیاسی جماعتیں آئین ، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے متحد ہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی 50 ہزار لوگوں کو جمع کرے اور حکومت اس کے حوالے کر دی جائے گی انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے استعفی مانگنا غیر آئینی ہے مائنس نواز شریف فارمولا قابل قبول نہیں ۔ ملک اس طرح کے دھرنوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ایک طرف ہم دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں دوسری طرف یہ ڈرامے کئے جا رہے ہیں معیشت کی بحالی بھی ایک جنگ تھی جو موجودہ حکومت نے لڑی ہے ۔shj/ah/jk

Archives