نہیں چاہتے کہ ملک میں پھر ایم آر ڈی یا اے آر ڈی بنانے کی ضرورت پڑے ، خورشید شاہ

اسلام آباد(ثناء نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں ایک بار پھر ایم آر ڈی یا اے آر ڈی بنانے کی ضرورت پڑے اسی لیے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان صلح کیلئے سرکردہ سیاستدانوںپر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دیدی ہے اس امر کا اظہار دونوں رہنماؤں نے بدھ کی شام اسلام آباد میں ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سید خورشید شاہ نے قمر زمان کائرہ کے ہمراہ اسفند یار ولی خان سے ملاقات کی سیاسی قوتوں میں ہم آہنگی کیلئے قائد حزب اختلاف کی جانب سے سیاستدانوں سے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے اس سے قبل سید خورشید شاہ نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سے بھی ملاقات کی۔آج قائد حزب اختلاف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملیں گے ۔ اسفند یارولی خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی سیاسی نقصان نہ ہو جائے سیاسی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنی والی جماعتوں سے رابطے ہو رہے ہیں انہوںنے کہا کہ اس جنگ میں حکومت اور تحریک انصاف فریق ہے حکومت بھی انتہاء پر ہے پاکستان تحریک انصاف نے بھی جارحانہ طرز عمل اختیار کر رکھا ہے دونوں جماعتوں کے قائدین کو ایک ساتھ بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ملک انتشار کا شکار نہ ہو جمعرات کو (آج) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات ہوگی ہم چاہتے ہیںکہ نظام کے حوالے سے جو خطرات ہیں وہ ٹل جائیں اسفند یار ولی خان نے کہا کہ ہم ہر ایک کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے سیاست میں انتہاء پسندی کا مظاہرہ نہیں ہوتا پارلیمنٹ کی سطح پر مسئلے کا حل نکلنا چاہیے کمیٹی بن گئی ہے انہوں نے نواز شریف اور عمران خان کے درمیان صلح کیلئے سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دیدی ہے انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کیلئے آپشن موجود ہیں جب گھر میں دو بھائی لڑ جائیں تو ان میں صلح کرانی پڑتی ہے اس موقع پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ اس صلح کے حوالے سے ہمیں ہی تیسری قوت تصور کیا جائے کوئی اور قوت نہیں آرہی ہم سیاسی قوت کو یکجا کر رہے ہیں۔aa/shj/ily

Archives