عمران خان لانگ مارچ موخر کریں مذاکرات کریں۔ خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد (ثناء نیوز) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کوشش ہے کہ ملک کے حالات خراب نہ ہوں اور کوئی درمیانی راستہ نکل آئے عمران خان لانگ مارچ موخر کریں یہ وقت اس کے لئے درست نہیں ۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہوتے ہیں لانگ مارچ سے نہیں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنے دے کر عدالت کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کرنا جمہوریت نہیں ۔ الیکشن ٹریبونلز اور سپریم کورٹ موجود ہے انہیں فیصلہ کرنے دیا جائے ۔ لانگ مارچ اور دھرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ عمران خان کو ان پر اعتماد نہیں ہے فیصلہ نہ ہمارا اور نہ ان کا فیصلہ صرف کورٹ آف لاء کا چلے گا میرا عمران خان کو مشورہ ہے کہ آپ کو مشقت کرنے کی ضرورت نہیں کورٹ میں آدھا زور لگائین تو کام ہو جائے گا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حالات ٹھیک ہیں انہیں خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لانگ مارچ تو ہم نے بھی کیا تھا جج بحال کرنے کے لئے کیا تھا ۔ حکومت گرانے کے لئے نہیں کیا ۔ تحریک انصاف تو حکومت گرانے کی بات کر رہی ہے اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں ہے اگر کوئی اور مقصد ہوتا تو بات چیت کا راستہ اختیار کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ٹریبونلز ہم نے نہین بنائے مگر غیر جانبدار اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ موجودہ الیکشن ٹریبونلز کے کام کی رفتار ماضی کے ٹریبونلز کی نسبت کہیں زیادہ تیز ہے ۔ ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے حل ہوتے ہیں لانگ مارچ یا احتجاجی دھرنوں سے ہیں قانون سازی ڈی چوک میں نہیں ہوتی ۔ پارلیمنٹ میں ہی ہو گی پی ٹی آئی ، پیپلزپارٹی اور ( ن ) لیگ کے بغیر قانون سازی نہیں ہو گی ۔ پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کے الگ الگ ایجنڈے ہیں پی ٹی آئی ایک جمہوری قوت ہے اس نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے بہت بڑی تعداد میں اسے ووٹ ملا ہے ہم اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہیں کے پی کے میں اس کی حکومت ہے ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ان کی حکومت دھاندلی سے بنی ہے یا سندھ میں پیپلزپارٹی نے دھاندلی کی ہے ۔ تحریک انصاف طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔ مگر ہم سے بات کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ پی ٹی آئی کو قانون اور آئین کے اندر رہ کر کھیلنا پڑے گا اگر یہ ماورائے آئین و قانون ایکشن کریں گے تو وہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں اگر تحریک انصاف کے لوگ براہ راست ہم سے بات نہیں کرنا چاہتے تو جرگہ تشکیل دے لیں اگر یہ سمجھتے ہیں کہ 18 کروڑ عوام کے ملک میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ آدمی اکٹھا کر کے دھرنا دے کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل کر لیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے ۔تحریک انصاف ہمیں دھمکیاں نہ دے طریقے سے پارلیمنٹ میں بات کریں وہاں اس کی نمائندگی موجود ہے ہم تو بار بار بات چیت کا مطالبہ کر رہے ہیں پارلیمنٹ یا کمرے میں ہی بیٹھ کر فارمولا طے ہو سکتا ہے چوک چوراہوں پر بات چیت تو نہیں ہو سکتی ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہ اکہ سپریم کورٹ موجود ہے اگر انہیں کوئی اعتراض تھا تو وہاں رجوع کرتے ۔ اسلام آباد پر پل پڑنا کوئی جواز ہے تحریک انصاف نے ہمارا چہرہ کالا کر دیا ہے ۔ ہم تحریک انصاف سے بات چیت کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اگر پی ٹی آئی 15 مہینے انتظار کر سکتی تھی تو 2 ماہ اور نہیں کر سکتی تھی ۔ arg/md/ah/jk

Archives