ملک میں جعلی برانڈ کے ناموں سے آلودہ زہریلا منرل واٹر فروخت کیا جا رہا ہے ۔ زاہد حامد

اسلام آباد(ثناء نیوز) وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں جعلی برانڈ کے ناموں سے آلودہ زہریلا منرل واٹر فروخت کیا جا رہا ہے ۔مختلف شہروں کے حوالے سے 31 مقدمات دائر کیے گئے متعلقہ کمپنیوں کے خلاف کاروائی کے لیے گئے تو پتہ جات بھی جعلی نکلے۔ معروف کمپنیوں کو بھی اپنی منرل واٹر بوتلوں پر ایکٹ کے مطابق معیاری پانی سے متعلق سیل لگانا ہونگی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پی پی پی کے اراکین کے 19 برانڈز کی جانب سے مختلف بیماریوں کے ماخذ آلودہ پینے کا پانی بوتلوں میں مہیا کیے جانے کے بارے میں پاکستان کونسل آف ریسرچ ان ورلڈ ریسورسز کی رپورٹ سے متعلق توجہ مبذول کرانے کا نوٹس پر بیان دیتے ہوئے کیا۔ سوالات کے دوران ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سینٹ کی ایک کمیٹی نے بھی آلودہ منرل واٹر کی تحقیقات کی تھیں۔معروف کمپنی نیسلے کا پانی بھی معیار پر پورا نہیں اترا تھا نیسلے کی بوتلوں میں بھی آلودہ پانی بھرا جا رہا ہے۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے کہا کہ کاروائی کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں جعلی برانڈ بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں کیونکہ جب بھی کاروائی کے لیے جاتے ہیں تو ان برانڈز پر درج پتہ جاتی جعلی نکلتے ہیں31 کیسز دائر کیے گئے 19 کمپنیوں کے منرل واٹر غیر معیاری آلودہ نکلے ہیں جہاں سے پانی بھرا جاتا ہے۔ زہریلا مواد بھی شامل ہو رہاہے 15 کمپنیوں کے پاس منرل واٹر کے لائسنس ہی نہیں تھے ۔8 کمپنیوں کے پتہ جات غلط نکلے۔حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین ماہ کے ٹائم فریم کا انتظار نہ کریں جیسے ہی کوئی منرل واٹر کے حوالے سے کوئی نیا برانڈمارکیٹ میں آئے اس کی چیکنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے تحت 71 آئٹم کمپنیاں معیار کے بارے میں وفاقی ادارے سے تصدیق کی پابند ہیں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ ملاوٹ شدہ خوراک بھی فروخت ہو رہی ہے صوبائی حکومتیں اپنی ذ مہ داری ادا کریں۔ اضلاع کی سطح پر ہمارا اختیار نہیں ہے اب تو صوبوں میں فوڈ اتھارٹیز بھی بن گئیں ہیں۔ وہ کہاں ہیں انہیں حرکت میں آنا چاہیے۔ہر منرل واٹر کی بوتل کو سیل شدہ ہونا ضروی ہے۔aa/ah/qa

Archives