کراچی شہر یتیم بن چکا ہے ، عا رف علوی

اسلام آباد (ثناء نیوز) قومی اسمبلی میں بدھ کو عیدالفطر کے موقع پر کراچی کے سمندر میں بڑی تعداد میں شہریوں کے ڈوبنے اور ان کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر بحث شروع ہو گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ پیسے بٹورنے میں لگے ہوئے ہیں شہریوں کے تحفظ کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ کراچی شہر یتیم بن چکا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ کراچی بھی سود مند ثابت نہیں ہوا ۔ شہریوں کی ہلاکتوں پر کسی کو تو ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہئے ۔ متعلقہ واقعہ پر بحث کے لئے تحریک وزیر سائنس و ٹیکنالوجی زاہد حامد نے پیش کی تھی ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عارف علوی نے کہا کہ سمندر میں عید کو ڈوبنے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کے حوالے سے متعلقہ مرکزی و صوبائی اداروں دونوں کی نااہلی سامنے آئی ہے غفلت کا مظاہرہ کیا گیا ۔ کمیونٹی سنٹر پارکس پر قبضے کر لئے گئے ہیں غریب لوگ سیروسیاحت کے لئے کلفٹن پیچ پر عید تہوار پر تفریح کے لئے جاتے ہیں ان کے علاقوں کے تمام تفریحی مقامات پر قبضہ مافیا قابض ہے ۔ سمندر کے ارگرد کئی مقامات پر پلاٹس بنا کر قبضے کر لئے گئے ہیں سمندر پر تفریح کے لئے آنے والوں کے لئے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہیں پاکستانی نیوی نے نعشوں کو نکالنے میں مدد کی ۔ ڈیفنس ہاؤس اتھارٹی اپنی ذمہ داری سے روگردانی کر رہی ہے ڈی ایچ اے اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی مذمت کرتا ہوں کراچی کو گائے سمجھ لیا گیا ۔ ٹیکس لئے جاتے ہیں شہر یتیم بن گیا ہے ۔ عید پر نعشیں برآمد ہوتی رہیں پولیس اور انتظامیہ وزراء کو پروٹوکول دینے میں لگی تھیں ۔ غریبوں کو سمندر میں دھکے دینے کے لئے ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں ۔ لاکھوں لوگ سمندر پر تھے کسی کو کوئی پرواہ نہ تھی ۔ ڈی ایچ اے ، کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی نااہلی کا نوٹس لیا جائے ۔ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے بھی اس معاملے کو نظرانداز کر رکھا ہے صوبائی حکومت ذمہ داری کیوں نہیں لیتی کیا لوگ مریں گے تو حکومت ان کو کفن دے گی ۔ اس سال 42 افراد سمندر میں ڈوب کر مر گئے ہیں یہ زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں کراچی میں نواز شریف کا دورہ بھی ناکام ہو گیا کوئی تو مستعفی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کے سانحے کی طرح سانحہ پیچ پر بھی پانی پھیر دیا جائے گا ۔ مرکزی و صوبائی متعلقہ ادارے پیسے کمانے میں لگے ہوئے ہیں سندھ حکومت برابر کی ذمہ دار ہے مسلم لیگ ( ن ) کے رکن ملک ابرار نے کہا کہ سمندر میں ڈوبنے والوں کی نعشیں نکالنے کے لئے نیوی کی ہیلی کاپٹرز کو حرکت میں آنا پڑا تھا انتظامیہ بالخصوص کمشنر اور ذمہ داران کہاں تھے لواحقین پریشان تھے ۔ aa/ah/jk

Archives