پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام مارچ کا حصہ نہیں

اسلام آباد(ثناء نیوز) تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج سے قبل ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور فریقین صورتحال کا رخ اپنے حق میں موڑنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہیں۔عمران خان نے 14 اگست کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور طاہرالقادری لاہور میں دس اگست کو یوم شہدا منا رہے ہیں۔وزیراعظم میاں نواز شریف اور تحریک انصاف کے عمران خان نے سیاسی رہنماں سے ملاقاتوں کا جو سلسلہ منگل کو شروع کیا تھا وہ بدھ کو بھی جاری رہا۔نواز شریف نے صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض سیاست دانوں سے علی الصبح ملاقاتیں کی ہیں جبکہ عمران خان جمعرات کی دوپہر جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق سے ملاقات کریں گے۔نواز شریف سے بدھ کے روز ملاقات کرنے والوں میں اعجاز الحق، سینیٹر ساجد میر اور فاٹا سے سابق وفاقی وزیر جی جی جمال شامل ہیں۔ جبکہ گذشتہ روز ملاقات کرنے والوں میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپا، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ شامل تھے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعتوں کی تعداد اور قد کاٹھ کے حوالے سے دیکھا جائے تو ابھی تک مسلم لیگ ن زیادہ تعداد میں سیاسی جماعتوں کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ بی بی سی کے مطابق عمران خان 14 اگست کے روز اپنے احتجاج کے لیے ابھی تک کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ یوم آزادی پر کسی احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔مسلم لیگ ن کے ترجمان سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ وہ عمران خان کے مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔وزیراعظم سے گذشتہ روز ملاقات کرنے والے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپا نے بی بی سی کو بتایا کہ دھرنا یا کوئی بھی احتجاج آئین کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔ عمران خان کا وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ ناجائز ہے حکومت کو اسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔nt/ah/wa

Archives