کھاد کے نرخوں میں کمی لاکر کسانوں کوریلیف فراہم کیاجائے۔جماعت اسلامی پنجاب

لاہور (ثناء نیوز) پارلیمانی لیڈر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیراحمدجنجوعہ نے کہا ہے کہ کسانوں پرمالیہ،آبیانہ،محصول ٹیکس،ٹال ٹیکس،یونین ٹیکس،ویلتھ ٹیکس اور زرعی ٹیکس لگاکر حکمرانوں نے اس شعبہ کی عملاً تباہی کردی ہے۔ایوب خان کے دور سے لے کر آج تک آبیانہ میں700فیصد تک اضافہ کیاجاچکاہے۔تمام حکومتوں نے کسانوں کے مسائل میں کمی لانے کی بجائے ان میں اضافہ کیا ۔حالیہ توانائی بحران اور بھارتی آبی جارحیت نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کوختم کیاجائے تاکہ کسانوں کوکچھ ریلیف میسر ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کوملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس وقت وطن عزیز کی 75فیصد آبادی کاتعلق اس شعبہ سے وابستہ ہے اور 47فیصد مزدور طبقے کاانحصار بھی اسی پر ہے۔حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث کسان طبقہ محرومیوں کا شکار ہے کوئی ان کاپرسان حال نہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نوازشریف حکومت دیگر شعبہ جات کی طرح اس شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دے۔جماعت اسلامی کے رہنما ؤںنے مزیدکہاکہ بھارت پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر تیزی سے ڈیم تعمیر کر رہاہے تاکہ وہ ہمارے حصے کاپانی بھی اپنے کھیتوں کی طرف موڑ سکے۔ایک اندازے کے مطابق وہ اب تک74ڈیم تعمیر کرچکاہے۔بھارت کے کسان ’’انڈین گورنمنٹ‘‘سے کئی قسم کی مراعات حاصل کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ فی ایکڑ پیداوار ہم سے کہیںزیادہ حاصل کررہے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے ہردور میں کسانوں اور زراعت سے وابستہ افراد کوریلیف دینے کی بجائے ان کا استحصال کیا ہے۔کالاباغ ڈیم نہ صرف شعبہ زراعت کی ترقی کے لئے بلکہ پاکستان کی بقاء کے لئے بھی ناگزیر ہے۔حکومت اتفاق رائے سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر شروع کرے#

Archives