پاک چین مشترکہ حکمتِ عملی برائے انسدادِ دہشت گردی علاقائی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، مشاہد حسین سید

اسلام آباد(ثناء نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور چین کے مابین مشترکہ حکمتِ عملی برائے انسدادِ دہشت گردی کے تعین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دہشت گردی کو انسانیت کا سفاک دشمن قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور ہمسایہ دوست ملک چین سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینکس کے مابین سیمینارسے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کیلئے افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، چین، ایران، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو باہمی طور پر جدوجہد کرنا ہوگی اور اس سلسلے میں دہشت گردوں کو ایک دوسرے کی سرحد پارکرکے دہشت گردی کی کاروائیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے چین کے افغانستان میں قیامِ امن کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں بالخصوص چینی حکومت کی جانب سے خصوصی ایلچی برائے افغانستان کی تعنیاتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان چین اور افغانستان کو باہمی تعاون بڑھانا چاہیے اور اس سلسلے میںپاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ رواں سال اکتوبر میں پاکستان ، افغانستان اور چین کے مابین سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد کرائے گا۔ سینیٹر مشاہد نے چینی صوبے سنکیانگ میںبدامنی کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چینی حکومت اور عوا م سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔ اس موقع پر ساسی یونیوسٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ قومی اور علاقائی نوعیت کا ہے اورانسدادِ دہشت گردی کیلئے بنائی جانے والی پالیسیوں میں علاقائی صورتحال کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔ انہوںنے شرکاء کو آگاہ کیا کہ امریکی و نیٹو افواج کی جانب سے افغانستان میںمسلط کردہ تیرہ سالہ جنگ میں تاحال ایک ٹریلین امریکی ڈالرز جھونکے جاچکے ہیں جبکہ ہمسایہ ممالک سے ملحقہ اٹھارہ سے زائد افغان صوبے شورش کا شکار ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اختتامیہ کلمات میں کہا کہ پاک چین مشترکہ حکمتِ عملی برائے انسدادِ دہشت گردی میں اہم ترین رکاوٹ پاکستان کی جانب سے واضح پالیسی کا نہ ہونا ہے جسکی بناء پر اب تک پچاس ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاگ جنگ میں جان گنوا بیٹھے ہیں۔ SHJ/QA

Archives