“آزادی اور “انقلابی مارچ” پاکستان کو مفلوج کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے،صدیق الفاروق

اسلام آباد(ثناء نیوز) مسلم لیگ ن کے چیف کوآرڈی نیٹر صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ نام نہاد”آزادی مارچ” اور “انقلابی مارچ” پاکستان کو اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے مفلوج کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔ پاکستان دشمن قوتوں نے پاکستان کوکمزور کرنے کیلئے 14ارب ڈالر پرائیویٹ اداروں اور افراد کو دئیے ہیں۔عمران خان بتائیں کہ انہیں اِس رقم میں سے کتنا حصہ ملا ہے،آزادی مارچ کے دوران بڑی تعداد میں لاشیں گرا نے کی سازش تیار ہوچکی ہے ۔چودھری برادران اور طاہر القادری کی اِس مشترکہ سازش کے تحت”آزادی مارچ” کے شرکاء میں اپنے آدمی داخل کرکے پولیس پر فائرنگ کی جائے گی تاکہ پولیس جواب میں مظاہرین پر فائرنگ کرے اور پھرنوازشریف اور شہبازشریف پر الزام عائد کرکے ملک میں آگ لگا دی جائے۔یہ انکشاف انہوں نے گزشتہ ورز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد”آزادی مارچ” اور “انقلابی مارچ” پاکستان کو اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے مفلوج کرنے کی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہے۔اِسی سازش کے تحت عوامی جمہوریہ چین میں دہشت گردی کروائی جا رہی ہے۔اِسی ایجنڈے کے تحت عمران خان پاکستان میں “آپریشن ضربِ عضب” کی مخالفت اور دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ صدیق الفاروق نے انکشاف کیا کہ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کوکمزور کرنے کیلئے2009ء سے 2014ء تک 14ارب ڈالر پرائیویٹ اداروں اور افراد کو دئیے گے ہیں۔ عمران خان بتائیں کہ انہوں نے پاکستان میں افراتفری کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے ،دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور آئینی اداروں کو متنازعہ بنانے کیلئے کتنے ملین ڈالر وصول کئے ہیں؟۔صدیق الفاروق نے کہاکہ وفاق اور پنجاب کی حکومتیںاِس سازش کوناکام بنانے کیلئے مزید ٹھوس سیاسی اور انتظامی اقدامات کریں اورپاکستان کے بین الاقوامی دشمنوں سے ڈالر لینے والے اداروں اور افراد بے نقاب کریں۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ عمران خان کے “آزادی مارچ” کیلئے اسلام آباد میں F-9پارک یا سپورٹس کمپلیکس کو مختص کردیاجائے اور مستقبل میں قانون سازی کرکے دھرنوں اورمظاہروں کیلئے وفاقی دارلحکومت کے قریب ایک بڑی جگہ مختص کردی جائے اور وفاقی دارلحکومت میں جمہوریت کے نام پر ایسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی جائے۔ایک سوال کے جواب میں صدیق الفاروق نے لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور وزیراعظم نوازشریف کی مصالحتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کوششوں کی کامیابی کی دعا کی ۔مسلم لیگی رہنما نے کہاکہ 65سالہ عمران خان اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر سیاست میں ون ویلنگ One Wheeling کر رہے ہیں جس کا نتیجہ اُن کیلئے تباہی ہوگا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں کہاکہ اگر عمران خان نے تحمل اور برداشت کا مظاہرہ نہ کیا اور مذاکرات کے راستے پر نہ آئے تو 14اگست کے بعد مسلم لیگ(ن) کی حکومتیں تو خدا کے فضل و کرم سے مزید مضبوط ہوںگی لیکن عمران خان مایوسی اور ناکامی کا اشتہار بن جائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ قانون کو ہاتھ میں لینے والا لیڈر ہو یا کارکن قانون کو بہرحال اُس کے خلاف حرکت میں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج کرنے والے چند ہزارلوگوں کو 20کروڑ عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت دی گئی تو پھر پاکستان کے چپے چپے پر ایک طائفہ قابض ہو کر من مانیاں کرے گا۔ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے اور نئے انتخابات کرانے کے عمران خانی مطالبے کو انہوں نے بچگانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ انوکھالاڈلا خان کھیلن کومانگے چاند ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر خدانخواستہ کل اسمبلی توڑ کر الیکشن کا اعلان کردیا جائے تو کیاموجودہ عدلیہ اورالیکشن کمیشن جن پر عمران خان الزام عائد کررہے ہیں بدل جائے گی؟ کیا موجودہ پولیس اور انتظامیہ کی جگہ فرشتے آ جائیں گے؟ ٘ظاہر ہے ایسا ہونا ناممکن ہے تو پھر اِسی الیکشن کمیشن ،انتظامیہ
،پولیس ،عدلیہ کے تحت الیکشن ہونگے۔اُن انتخابات کے نتائج کو عمران خان کیسے قبول کریں گے؟ صدیق الفاروق نے کہاکہ عمران خان کی انتخابی دھاندلی کے الزام میں کچھ وزن اُس وقت ہوتا جب اُن کی پارٹی خیبر پختوانخواہ اسمبلی سے ایک سال پہلے استعفیٰ دے چکی ہوتی۔ لیکن جب وہ اِن انتخابا ت کی گنگا میں خود بھی آشنان کررہے ہیں تو دوسروں پر الزام لگانے سے گریز کریں۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کی کارکردگی پرعمران خان کی تنقید کے جواب میں صدیق الفاروق نے کہاکہ “عمران خان بتائیں کہ انہوںنے 15مہینوں میں کے پی کے میں کتنے بجلی گھر لگائے ہیں؟کتنے کرپٹ مگرمچھ پکڑے ہیں ؟ کتنے کارخانے لگائیں ہیں؟انہوں نے اب تک کے پی کے میں کرپشن کے خلاف قانون سازی کیوں نہیں کی۔riz/shj/ily

Archives