غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1900 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،فلسطینی سفیر

اسلام آباد(ثناء نیوز)فلسطین کے سفیر ولید ابو علی نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1900 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ غزہ کا پورا علاقہ تباہی و بربادی کا منظر پیش کر رہا ہے، وہاں کے عوام فوری امداد کے منتظر ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے بدھ کو نیشنل پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں کیں۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے پاکستان میڈیا کی کوریج پر ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان، حکومت پاکستان اور پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی غزہ میں 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی ہوئی ہے امید ہے کہ یہ مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو جائے گی۔ غزہ کا علاقہ دنیا کا گنجان ترین آبادی والا علاقہ ہے۔ جس میں چار سو مربع کلو میٹر کے علاقہ میں 18 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ فلسطینی آبادی جس کی اکثریت بے گھر ہو کر مساجد اور گرجا گھروں میں پناہ لئے ہوئے ہیں ان کو کس طرح بنیادی ضرورت کی اشیاء اور ادویات و علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے اقوام متحدہ، او آئی سی، عرب لیگ، عرب اقوام، انسانی حقوق کے پاسداروں اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں نے کچھ نہیں کیا۔ اسرائیل کے ایف 16 طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برساتے رہے جبکہ امریکی صدر اوباما اور بان کی مون یہ کہتے رہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی برادری ہم سے انسانوں جیسا سلوک کرے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ حماس یا الفتح کا نہیں بلکہ اسرائیل تمام فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب تک کوئی نہیں جانتا کہ تین اسرائیلی شہریوں کو کس نے اغوا کیا۔ جسے بنیاد بنا کر غزہ پر چڑھائی کی گئی۔ اسرائیل نے اپنی اندرونی سیاست اور عرب خطہ میں جو ہو رہا ہے اس کو بنیاد بنا کر فلسطین پر حملہ کیا۔ 12 اگست کو جدہ میں او آئی سی کے ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں فلسطین پر اسرائیل کے حملہ کی صورت حال پر غور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے حوالے سے ایک سال کے جواب میں فلسطین کے سفیر نے کہا کہ ابھی تک فلسطین کو اس کی رکنیت ہی نہیں دی گئی ہم عالمی عدالت انصاف کی رکنیت کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں اس کے لئے ہم جلد درخواست دیں گے تاکہ ہم اسرائیلی کی سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکیں۔ غزہ کی موجودہ صورت حال کے حل کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کا ایک طویل مدت اور ایک قلیل مدتی حل ہے، قلیل مدتی حل یہ ہے کہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیا جائے، تباہ حال غزہ کی بحال کی جائے اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کا محاصرہ ختم کرایا جائے تاکہ عالمی برادری کی طرف سے بھیجی جانے والی امداد فلسطینیوں تک پہنچ سکے۔ طویل المدتی حل، دو ایسی ریاستوں کے قیام پر مبنی ہے جو پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت رہ سکیں اور 1967 والی سرحدیں بحال کی جائیں۔ اگر اسرائیل اس پر راضی نہیں ہوتا تو ہم فلسطینی ریاست کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ pr/shj/ily

Archives