مصر، لیبیا میں فوجی مداخلت کا سوچ رہا ہے،عمرو موسٰی

قاہرہ(ثناء نیوز)مصر کے سابق وزیر خارجہ عمرو موسٰی نے مصری حکومت کو لیبیا میں جاری تنازعے کے فوجی حل پر غور کا مشورہ دیا ہے۔ اپنے ایک باضابطہ جاری کردہ بیان میں انہوں نے یہ اشارہ بھی دیاکہ مصر، لیبیا میں فوجی مداخلت کا سوچ رہا ہے۔واضح رہے لیبیا 2011 کے بعد سے مسلسل عسکریت پسندوں اور مقتول معمر قذافی کے باغیوں کی دست برد میں ہے، جس کی وجہ سے لیبیا میں بد امنی زوروں پر ہے۔عمرو موسٰی کے مطابق ”مصر کے مغربی پڑوسی لیبیا میں تازہ لڑائی اور بد امنی خود مصری سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے، نیز لیبیا کی صورت حال دوسرے ہمسایوں اور عرب دنیا کے لیے بھی خطرے اور پریشانی کا ذریعہ ہے۔ ”سابق وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ”فرقہ پرست اور انتہا پسند گروہ مصری قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرے کا ذریعہ ہیں،اس لیے میں اس معاملے رائے عامہ کو اعتماد میں لینے کے لیے عوامی سطح پر ایک بحث شروع کرانے کے حق میں ہوں۔ ”مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے عمرو موسی کے اس بیان پر کسی تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ عمرو موسی مصری معاشرے میں سیاسی اعتبار سے اہمیت رکھنے والی شخصیت ہیں۔انہیں صدر عبدالفتاح السیسی کے بھی قریب سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمرو موسی کا یہ بیان اس امر کا اظہار ہے کہ لیبیا میں فوجی مداخلت حکومت کی سطح پر ایک اہم اور زیر غور منصوبہ ہے۔۔nt/shz/ah/wa

Archives