فلسطین اور اسرائیل عارضی جنگ بندی پر متفق

غزہ(ثناء نیوز) فلسطین اور اسرائیل 72 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں،جس پر عمل درآمد کا آغاز ہوچکا ہے ۔غزہ سے اسرائیل کے زمینی دستوں کے انخلا کا بھی اعلان کر دیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ بندی کی یہ تازہ ڈیل قاہرہ میں مذاکرات کے بعد عمل میں آئی۔مذاکرات میں میزبان ملک کے اور فلسطینی مذاکرات کاروں نے شرکت کی،جس میں حماس کے نمائندے بھی شامل تھے۔اگرچہ اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی وفد قاہرہ نہیں بھیجا گیا ہے تاہم اسرائیل کی طرف سے اعلان کر دیا گیاکہ فائر بندی کے لیے مصر کی طرف سے پیش کردہ منصوبہ تسلیم کر لیا گیا۔اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا،ہم مصر کی پیشکش پر عمل درآمد شروع کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں کے مطابق جنگ بندی پر عمل در آمد کا فیصلہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں لیا گیا۔اسرائیل کے بعد فلسطینی تنظیم ‘حماس’ کی جانب سے بھی اعلان کر دیا گیاکہ وہ بہتر گھنٹوں پر مشتمل اس عارضی فائر بندی ڈیل پر عمل در آمد کے لیے راضی ہے۔یہ اعلان حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے کیا۔قبل ازیں قاہرہ میں فلسطینی وفد کے سربراہ عزام الاحمد نے کہا تھا،فلسطینی جنگ بندی کے لیے مصری منصوبے پر متفق ہو گئے ہیں۔یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے اسی طرز کی ایک بہتر گھنٹوں کی فائر بندی ڈیل ناکام ہو گئی تھی،جس کے لیے فریقین نے ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرایا تھا۔حماس کے عسکری ونگ کے جنگجوں کی جانب سے اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے آٹھ جولائی کو غزہ پٹی میں باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس میں اب تک 1,834 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بھاری اکثریت شہریوں کی ہے۔ اس دوران اسرائیل کے بھی چونسٹھ فوجی اور تین سویلین مارے جا چکے ہیں۔۔nt/shz/ah/wa

Archives