شمالی عراق میں لڑائی کے نتیجے میں 40 بچے ہلاک

بغداد(ثناء نیوز)عراق کے شمالی علاقے سنجار میںداعش کے قبضے کے بعد لڑائی کے نتیجے میں اقلیتی یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے کم سے کم چالیس بچے موت کے منہ میں چلے گئے ۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے حقوقِ اطفال (یونیسیف) نے ایک بیان میں بتایاکہ یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے یہ بچے گذشتہ دوروز کے دوران تشدد کے براہ راست مضمرات،گھر بدری اور پانی کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔داعش نے سنجار پر کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ کے ساتھ لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔یہ قصبہ شام کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور یہاں زرتشت مذہب کے ایک قدیمی فرقہ یزیدی کے پیروکار صدیوں سے آباد ہیں۔داعش نے انھیں ”شیطان کے پجاری” قرار دیا۔سنجار میں 9 جون کو عراق کے شمالی تل عفر پر داعش کی چڑھائی کے بعد بے گھر ہونے والے شیعہ ترکمان فرقے کے ہزاروں لوگوں نے بھی عارضی طور پر پناہ لے رکھی تھی اور یزیدیوں کے ساتھ انھیں بھی دوبارہ دربدر ہونا پڑا ہے۔یزیدی فرقے کے ایک ترجمان جوہرعلی بیگ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سنجار اور اس کے نواحی قصبے زمار پر داعش کے قبضے کے بعد قریبا چالیس ہزار یزیدی اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوس میں واقع خود مختار علاقے کردستان کی جانب چلے گئے ہیں۔یونیسیف کا کہنا ہے کہ شمالی عراق میں دربدر ہونے والے ہزاروں افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ان میں پچیس ہزار بچے شامل ہیں جو اپنے خاندانوں کے ساتھ سنجار کے نواح میں واقع پہاڑی علاقوں میں پھنس کررہ گئے ۔انھیں پینے کے صاف پانی سمیت خوراک کی بنیادی اشیا فوری طور پر مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔یزیدی فرقے کے لیڈروں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد یزیدیوں کے لیے اپنے آبائی علاقیمیں رہنا دوبھر ہوگیا ہے۔وہ اس علاقے میں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔داعش نے انھیں بھی موصل کے عیسائیوں کی طرح تین شرائط پیش کی ہیں۔اول یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔اگر یہ شرط منظور نہیں تو جزیہ دیں۔تیسری صورت میں وہ اپنا گھربار چھوڑ کر علاقے سے چلے جائیں یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں۔داعش کی دھمکیوں کے بعد اب وہ کردستان کی جانب منتقل ہورہے ہیں۔۔nt/shz/ah/wa

Archives