بنگس کو بیہودہ سرگرمیوں کا اڈہ بنانا تہذیبی جارحیت ہے، حریت کانفرنس

سرینگر (ثناء نیوز) حریت کانفرنس گ نے بعض شرپسندوں کی طرف سے وادء بنگس کو بے حیائی کا اڈہ بنانے کی کوششوں کے خلاف پنزہ گام چوکی بل کے لوگوں کی مزاحمت کو بروقت قرار دیتے ہوئے تمام باغیرت اور محبِ وطن لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ شراب، منشیات اور بے حیائی کے کاموں کا قلع قمع کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور تہذیبی جارحیت کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہوجائیں۔ حریت نے کہا کہ صحت افزا مقامات پر بے ہودہ سرگرمیوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہورہی ہے اور پولیس ان پر روک لگانے کی بجائے ان شہریوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتی ہے جو غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بنگس کو جب سے صحت افزا مقام کا درجہ دیا گیا ہی، بعض سماج دشمن عناصر اس کو شراب نوشی اور بے ہودہ سرگرمیوں کی انجام آوری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے پورے علاقے کے ذی عزت شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور وہ اس کے خلاف منظم ہونے لگے ہیں۔ اس سلسلے میں پنزہ گام چوکی بل کے لوگوں نے سب سے زیادہ غیرت اور جرات کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے ایسے عناصر پر لگام کسنے کی کوشش کی اور ان کی بے ہودگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ بیان میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ پولیس کو جہاں ایسے باضمیر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرکے جرائم پیشہ لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لانی چاہیے تھی، اس نے الٹا پنزہ گام کے لوگوں پر ہی تشدد ڈھایا اور ان پر ٹائیرگیس شلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔ عام شہریوں کے ایک وفد نے حریت دفاتر پر آکر شکایت کی کہ ایس ایچ اواور ڈی ایس پی آپریشنز نے اس سلسلے میں غیر ذمہ دارانہ رول ادا کیا اور بجائے اس کے کہ وہ شراب، منشیات اور دیگر برائیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لاتی۔ بیان میں پولیس کے رول کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا گیا کہ حریت کانفرنس اس معاملے پر نزدیکی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں علاقے کے ذی عزت لوگوں کو بھی اعتماد میں لیا جارہا ہی۔ بیان میں پنزہ گام کے لوگوں کی زبردست تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ وہ اس مقدس مشن میں اکیلے نہیں ہیں، بلکہ پوری قوم ان کی پشت پر ہے اور وہ وادء بنگس اور دوسرے صحت افزا مقامات کو بے ہودہ کاموں کے ٹھکانوں میں تبدیل کرانے کی کوششوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر شرپسند عناصر کا سماجی مقاطعہ( سوشل بائیکاٹ) کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔۔nt/ah/wa

Archives