نئی دہلی میں فوجی سربراہ اور وزیر داخلہ کے درمیان ملاقات

نئی دہلی (ثناء نیوز) بھارت کے نامزد آرمی چیف جنرل دلبیرسنگھ سہاگ نے نئی دہلی میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، داخلہ سیکرٹری انیل گوسوامی کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی ۔اس موقع پر فوج،نیم فوجی دستوں اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ بھارتی اخبار کے مطابق میٹنگ کے دوران یوم آزادی 15 اگست کے دن کے موقع پر عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں، دراندازی کو روکنے ،حد متارکہ پر جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا میٹنگ کے دوران نومنتخب فوجی سربراہ نے ریاست جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے وزیر داخلہ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حد متارکہ سے عسکریت پسندوں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے اور گزشتہ دنوں مژھل سیکٹر میں دراندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا اور جوابی کاروائی کے دوران چار عسکریت پسند جاںبحق ہو گئے جبکہ مزید واپس پاکستانی زیر انتظام کشمیر جانے پر مجبور ہوئے۔فوجی سربراہ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں عسکریت کو کچلنے ، دراندازی کو روکنے اور حد متارکہ پر ناجنگ معاہدے کی خلاف ورزی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کارگر اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ ریاست جموں و کشمیر میں جاری عسکریت کو جوڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے ۔فوجی سربراہ نے کہا کہ امن وامان بحال کرنے اور لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی بھی کسر باقی نہیں چھوڑی جا رہی ہے۔فوججی سربراہ نے میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ کو یقین دلایا کہ ریاست میں امن وامان بحال کرنے کے لیے فوج کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور 15 اگست یوم آزادی کے دن کے موقع پر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ادھر وزارت داخلہ کی جانب سے 67ویں یوم یزادی کے دن کے موقع پرریاست میں حفاظتی انتظامات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ریاست کے اطراف و اکناف میں منعقد ہونے والی تقریبات کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے کے لیے فوج اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے تمام خفیہ اداروں کو تاکید کی ہے کہ عسکریت پسندوں کے منصوبوں کے بارے میں تمام تر تفصیلات جمع کی جائین اور ناخوشگوار واقعات کوٹالنے کے سلسلے میں فوج،نیم فوجی دستوں اور پولیس کو چوکس رکھا جائے تاکہ لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔nt/ah/qa

Archives