اسحاق ڈار پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے اتفاق رائے سے چیئرمین منتخب

اسحاق ڈار پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے اتفاق رائے سے چیئرمین منتخب

اسلام آباد(ثناء نیوز)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کا اتفاق رائے سے چیئرمین منتخب کرلیا گیا ہے کمیٹی سولہ سیاسی جماعتوں کے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود 33نمائندوں پر مشتمل ہے پاکستان تحریک انصاف نے بھی کمیٹی کی سربراہی کیلئے سینیٹر اسحاق ڈارپر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سولہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملکر انتخابی اصلاحات کیلئے کام شروع کر دیا ہے نو منتخب چیئرمین سینیٹر اسحاق ڈار نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کمیٹی اتفاق رائے سے تین ماہ کے مقررہ وقت سے قبل اپنا ٹاسک مکمل کرلے گی تمام شراکت داروں سے تجاویز لی جائیں گی کمیٹی کا ماحول انتہائی خوشگوار ہے اور تمام جماعتوں کے اراکین کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں خیر سگالی کے جذبات کے تحت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی اور انہیں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس بدھ کوپارلیمنٹ ہاؤس کے آئینی روم میں منعقد ہوا قومی اسمبلی سیکرٹری کے حکام نے چیئرمین کے انتخاب کے عمل کی نگرانی کی کمیٹی میں 22ارکان قومی اسمبلی اور 11سینیٹرز شامل ہیں اس طرح کمیٹی میں حکومت اور اس کے اتحادیوں کی تعداد 19جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 11ہے قواعد و ضوابط اور انتخابی اصلاحات کی تیاری کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے کیلئے کمیٹی کا دوسرا اجلاس گیارہ اگست پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوگا کمیٹی کے چیئرمین کیلئے منعقدہ اجلاسمیں سینیٹر اسحاق ڈار ،زاہد حامد، انوشہ رحمان ،عبدالحکیم بلوچ،سینیٹر حاجی عدیل،ڈاکٹر عارف علوی ،شفقت محمود ،ڈاکٹر شیریں مزاری ،سینیٹر رضا ربانی ،نوید قمر ،شازیہ مری،سینیٹر طلحہ محمود،شیخ رشید احمد، اعجاز الحق ،آفتاب احمد خان شیر پاؤ، عبدالرحیم مندوخیل ،سینیٹر کلثوم پروین، شریک ہوئیں اجلاس کے بعد کمیٹی کے نو منتخب چیئرمین سینیٹر اسحاق ڈار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو رولز آف بزنس اور ٹرم آف ریفرنس کو حتمی شکل دیدی جائیگی جامع اصلاحات کا مسودہ تیار کرنا ہے اتفاق رائے سے اس کام کو مکمل کر لیں گے اور توقع ہے کہ تین ماہ سے قبل یہ کام مکمل کرلیا جائیگا تمام شراکت داروں سے انتخابی اصلاحات کیلئے تجاویز لیں گے اور جب وہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تھے تو انہوں نے انتخابی اصلاحات کیلئے ورکنگ پیپر تیار کیا تھا سینیٹ کی کمیٹی نے کی اس کی توثیق بھی کی تھی پہلے بھی ہوم ورک کیا گیا تھا انہوںنے کہا کہ اتفاق رائے سے اصلاحات کے مسودے کو تیا رکرکے اب قوانین میں ضروری تبدیلیاں لانی ہیں جن سے بھی ضرورت پڑی ان سے تجاویز لیں گے قومی ایشو ہے سب کو ساتھ لیکر چلیں گے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تحریک انصاف نے بھی ان پر اعتمادکا اظہار کیا ہے اور ماضی میں جسطرح آئینی اصلاحات اور نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے سیاسی جماعتوں نے ملکر سفارشات مرتب کی تھیں انتخابی اصلاحات کیلئے کمیٹی اس روایت کو برقرار رکھے گی اور ہم سب ملکر سپرد ذمہ داری کو مکمل کرنے کی کوشش کرینگے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہ صرف ماضی میں مرتب کی گئی سفارشات بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اسٹریٹیجک پلان کا بھی جائزہ لیا جائیگا اب سفارشات کے حوالے سے ضروری قانون سازی ہونی ہے ۔aa/shj/ily

Archives