حکومتی غزہ پالیسی کے خلاف احتجاج، برطانوی وزیر سعیدہ وارثی مستعفی

حکومتی غزہ پالیسی کے خلاف احتجاج، برطانوی وزیر سعیدہ وارثی مستعفی

لندن(ثناء نیوز) برطانوی وزارتِ خارجہ میں وزیر مملکت سعیدہ وارثی نے غزہ کے تنازعے میں لندن حکومت کی اخلاقی طور پر ناقابل دفاع پالیسی کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔ وہ برطانوی کابینہ کی پہلی مسلمان رکن تھیں۔ برطانوی خاتون سیاستدان سعیدہ وارثی کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ یارک شائر میں پیدا ہوئی تھیں ٹویٹر پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے سعیدہ وارثی نے، جن کے پاس فیتھ اینڈ کمیونٹیز کی وزارت کا بھی قلمدان تھا، کہا کہ وہ حکومتی پالیسی کی مزید تائید و حمایت نہیں کر سکتیں اور یہ کہ انہوں نے اپنا تحریری استعفی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھیج دیا ہے۔سعیدہ وارثی نے کیمرون کے نام اپنے خط کی تصویر بھی ٹویٹر پر پوسٹ کی ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میرا موقف یہ رہا ہے کہ مشرقِ وسطی امن عمل کے حوالے سے ہماری عمومی پالیسی اور حالیہ کچھ عرصے کے دوران غزہ کے تازہ بحران کے حوالے سے ہمارا موقف اور ہماری طرف سے استعمال کی جانے والی زبان اخلاقی اعتبار سے ناقابلِ دفاع ہے۔ یہ برطانیہ کے قومی مفاد میں نہیں ہے اور یہ طویل المدتی بنیادوں پر ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بھی ہماری ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔سعیدہ وارثی غزہ میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی شدید مذمت کرتی رہی ہیں۔ ابھی چوبیس جولائی کو انہوں نے اقوام متحدہ کے ایک اسکول پر اسرائیلی بمباری کے بعد اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا تھا: کیا لوگ بچوں کی ہلاکتوں کو جائز قرار دینا بند کریں گے۔ ہماری سیاست جو بھی ہو، اس چیز کو کبھی بھی حق بجانب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ غزہ کے حالات پر صرف دکھ اور افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔سعیدہ وارثی شہر یارک شائر میں پاکستانی والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں اور جب 2010 میں ڈیوڈ کیمرون ملک کے وزیر اعظم بنے تو انہیں برطانوی کابینہ کی پہلی مسلمان رکن کے طور پر ذمے داریاں سونپی گئیں۔ ستمبر 2012 میں کابینہ میں ہونے والے رد و بدل کے دوران ڈیوڈ کیمرون نے انہیں کنزرویٹو پارٹی کی نائب صدارت سے ہٹا کر وزارتِ خارجہ میں بھیج دیا۔ تب عام طور پر یہی خیال کیا گیا کہ انہیں مقابلتا کم اہم پوزیشن پر بھیج دیا گیا ہے۔سعیدہ وارثی کا یہ استعفی ڈیوڈ کیمرون پر کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی صفوں کی جانب سے ہونے والی اس تنقید کے بعد آیا ہے، جس میں کہا جا رہا تھا کہ اسرائیل نے مقابلتا کہیں زیادہ طاقت استعمال کی ہے تاہم کیمرون اس کی مذمت کرنے سے ہچکچاتے رہے ہیں۔پیر چار جولائی کو کیمرون نے غزہ میں جانوں کے افسوس ناک زیاں پر افسوس کا اظہار تو کیا تھا تاہم انہوں نے یہ کہنے سے انکار کر دیا تھا کہ آیا اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔nt/shj/qa

Archives