اسرائیلی مذمت کی لہر یہود مخالف لہر نہ بنے،بان کیمون

نیو یارک(ثناء نیوز)غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی کے بعد دنیا بھر میں عوامی سطح پر مذمتی لہر کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے اسے یہودیوں کی مخالفت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔سیکرٹری جنرل نے یہ اس لیے کہا ہے کہ حالیہ عشرے میں بعض تنظیموں کی دہشت گردی کا ملبہ شعوری طور پر دنیا بھر میں اسلام اور تمام مسلمانوں پر ڈال دیا گیا،جس کے بعد ہر جگہ عام مسلمانوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگاہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے دنیا کے کسی دوسرے حصے میں سماجی امن اور ہم آہنگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔بیان میں کہا گیاکہ وہ پختہ یقین رکھتے ہیں جاری تنازعے کو تشدد کے خاتمے اور بات چیت کی بنیاد پر طے ہونا چاہیے۔واضح رہے اسرائیل کے خلاف اور غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں لندن،جرمنی اور پیرس سمیت بڑے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں،اس دوران پیرس میں مظاہرین نے یہود مخالف انداز اختیار کیا۔جبکہ لندن ،پیرس اور برلن میں یہود مخالف نعرے بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی بمباری سے قریب قریب دوہزار شہری شہید اور دس ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ہزاروں مکانات وعمارات بمباری سے مسمار ہو گئے ہیں،ان میں ہسپتال،مساجد اور اقوام متحدہ کے ادارے بھی شامل ہیں۔۔nt/shz/ah/wa

Archives