اسرائیل غزہ سے زمینی فوج واپس بلا رہا ہے،ترجمان

مقبوضہ یروشلم(ثناء نیوز) اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ سے تمام اسرائیلی فوج واپس بلا لیے جائیں گے اور انھیں غزہ پٹی کے باہر دفاعی مقامات پر تعینات کیا جا رہا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان لفٹینٹ کرنل پیٹر لرنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان دفاعی مقامات پر کنٹرول قائم رکھے گا۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا تعین شدہ ہدف یعنی غزہ سے اسرائیل میں جانے والی سرنگوں کو تباہ کرنا، حاصل کر لیا گیا ہے۔غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ چار ہفتے جاری رہنے والی اس کشیدگی میں 1800 فلسطینی شہید اور67 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ اس اعلان سے قبل مصر کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔اسرائیل اور حماس نے بھی 72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو قبول کرنے کی تصدیق کی تھی۔اس جنگ بندی پر عمل مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح آٹھ بجے سے شروع ہوگیا تھا۔حماس کے ترجمان سمیع ابو زوہری نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حماس نے مصر کو بتا دیا ہے کہ وہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز کو ماننے پر تیار ہے۔فلسطین میں اقوامِ متحدہ کے ڈائریکٹر آپریشن نے کہا کہ اسرائیلی حکام کو اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہوں کی فہرست دی گئی ہے اور ان کی نشاندہی کئی بار کی جا چکی ہے لیکن اس کے باجود بھی حملے جاری رہنا ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اس سکول میں پناہ لے رکھی تھی۔خیال رہے کہ رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔اسرائیلی فوج نے غزہ میں کی جانے والی نئی کارروائی پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا۔۔nt/shz/ah/wa

Archives