عرسال کو شامی باغیوں سے بازیاب کروانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی، لبنانی وزیراعظم

بیروت(ثناء نیوز)لبنانی وزیراعظم تمام صائب سلام نے واضح کیا کہ وہ اس کا عہد کرتے ہیں کہ عرسال کو شامی باغیوں سے بازیاب کروانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ اس موقع پر تمام سلام کا کہنا تھا کہ وہ اِس کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ قاتل دہشت گردوں کو قطعا لبنانی سرزمین پر برداشت نہیں کیا جائے گا اور لبنان میں غیر قانونی انداز میں داخل ہو کر عام لوگوں کی تذلیل کرنے والے اِن دہشت گرد عناصر کے ساتھ کوئی سمجھوتہ یا معاہدہ بھی نہیں کیا جائے گا۔تمام صائب سلام نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔پیر کے روز اقوام متحدہ کے ادارے سکیورٹی کونسل میں لبنانی علاقے پر شامی باغیوں کی جارحیت کی واضح طور پر مذمت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں لبنانی حکومت کی جوابی عسکری کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے بیروت حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ شامی تنازعے میں زیادہ ملوث ہونے سے گریز کرے۔ سکیورٹی کونسل نے لبنان کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اتحاد کو فوقیت دیتے ہوئے اِس صورت حال میں ملکی سلامتی کو محفوظ رکھیں اور ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیں جن سے لبنان کی اندرونی سلامتی و استحکام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔شام اور لبنان کی سرحد پر واقع اہم اسٹریٹیجک قصبے عرسال پر القاعدہ سے وابستگی رکھنے والے قدرے کم انتہا پسند گروپ النصرہ فرنٹ نے دو چار روز قبل قبضہ کر لیا تھا۔ ہفتے کے روز ہونے والے قبضے کے بعد سے لبنانی فوج اور النصرہ فرنٹ کے جنگجوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس دوران چودہ لبنانی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے۔ بائیس فوجیوں کے لاپتہ ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔ کل چھیاسی فوجی زخمی بتائے گئے ہیں۔ لبنانی فوج نے ہلاکتوں، لاپتہ فوجیوں اور زخمیوں کی تصدیق کر دی ہے۔ لبنانی فوج نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ گزشتہ رات ہونے والی جھڑپ میں اس نے دسیوں باغیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔دوسری جانب النصرہ فرنٹ سے وابستہ ٹویٹر اکانٹ پر چھ لبنانی فوجیوں کی ایک تصویر جاری کی گئی ہے۔ عسکریت پسندوں کا دعوی ہے کہ یہ فوجی اس کے قبضے میں ہیں۔ اِس دوران لبنان کے سنی زعما کا ایک گروپ عرسال میں داخل ہونے کی کوشش میں ہے تاکہ باغیوں سے مکالمت کرتے ہوئے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ وہ علاقہ خالی کر دیں اور جاں بحق فوجیوں کی لاشیں بھی لبنانی حکام کی تحویل میں دے دیں۔ یہ سنی گروپ بھی فائرنگ کی زد میں آ گیا۔ لبنانی ٹیلی وژن کے مطابق سنی اکابرین کی کمیٹی کے تین اراکین زخمی ہو گئے ہیں۔nt/ah/wa

Archives