کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جانا چاہیے، برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد

کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جانا چاہیے، برطانوی پارلیمنٹ میں قرارداد

لندن(ثناء نیوز)برطانوی پارلیمنٹ کے 40 ارکان نے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کی وکالت کرتے ہوے برطانوی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد جمع کر ادی ہے ۔ قرارداد میں مسئلہ کشمیر کو علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوے اس کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔برطانوی پارلیمنٹ کے رکن ڈیوڈوارڈ نے پارلیمنٹ کی بزنس کمیٹی میں قرار داد کا متن جاری کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ قرارداد میں کہا گیا ہے یہ ایوان محسوس کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے جبکہ اس مسئلے سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے علاوہ لوگ عدم تحفظ اور عدم استحکام کے شکار ہو رہے ہیں۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ریاستی لوگوں کو اپنا سیاسی تقدیر طے کرنے کیلئے حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جانا چاہے۔ ڈیوڈوارڈ نے کہاکہ ہم ایک قرارداد پر بحث چاہتے ہیں جس پر بہت سے ارکان کے دستخط ہیں اور یہ کہ اب تک اس قرارداد پر40ممبران پارلیمنٹ نے اپنے دستخط ثبت کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتیں نظریات سے بالاتر ہوکر کئی ایک یورپی پارلیمنٹ ممبران نے بھی اس قرار داد پر دستخط کئے جبکہ اس دوران مذکورہ قرار داد پر50ہزار لوگوں نے بھی دستخط کیے۔طانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈوارڈ نے مسئلہ کشمیر کو علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ قراردیتے ہوئے بیک بنچ بزنس کمیٹی کو بتایاکہ بھارت کی نئی حکومت نے کشمیرکے حوالے سے جارحانہ روش اپنائی ہے جس سے بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پارلیمان کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربحث کرائیں گے اور اس حوالے سے دستخطی مہم میں 40 ارکان نے انکے موقف کی حمایت کی ہے جو چاہتے ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر جموں کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر بحث ہو۔ ڈیوڈوارڈ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گذشتہ کئی برس سے بہت سے لوگوں کیلئے مسلسل ایک تکلیف کا باعث ہے جبکہ 5سے 6 لاکھ بھارتی فوجی مستقل بنیادوں پر اس علاقے میں موجود ہیں یہ ایک کشیدگی والاعلاقہ ہے جہاں گزشتہ 60 سال یااس سے زائد عرصے میں 5 لاکھ سے زائد افراد اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔برطانوی پارلیمنٹ ممبر کا کہنا ہے کہا کہ ان چیزوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اہم مسئلہ ہے انسانی حقوق کی پامالیوں پر بحث ہونی چاہے جبکہ3سال قبل بھی اس اہم و حساس معاملے پر چیمبر میں بحث ہوئی تھی۔ڈیورڑ وارڑ نے کہا کہ اب بیشتر لوگ اس کو بھولا بسرا معاملہ اورسمجھتے ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا2 نیوکلیائی ظاقتوں کی باتیں کرتا ہے جو ایک دوسرے کے مد مقابل ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیرپر بحث ضروری ہے کیونکہ اس کے بین الاقوامی پہلو بھی ہیں۔انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ 370کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ آرٹیکل جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا ہے لیکن نئی بھارتی حکومت اس دفعہ کی منسوخی کی باتیں کر رہی ہے جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔اگر چہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کرن کی کوئی بھی تاریخ ابھی تک طے نہیں ہوئی ہے تاہم اس دوران برطانیہ کی کچھ تھینک ٹینکوں اور بھارت کے دوستوں کو یہ بحث ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ میں کیوں زیر بحث لایا جائے جبکہ انگلستان کا یہ موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہند پاک کا اندرونی معاملہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ سوئر ہیگو نے برطانوی پارلیمنٹ میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ہندوستان اور پاکستان کو باہمی طور پر برآمد کرنا چاہے۔اس سے پہلے برطانوی وزیرخارجہ سووئر ہیگو نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی بھی حل پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کے درمیان ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہند پاک وزرااعظموں ک درمیان گزشتہ برس ستمبر میں نیو یارک میں جو ملاقات ہوئی اسکا ہم خیر مقدم کرتے ہیں جبکہ برطانوی حکومت دونوں ملکوں کو کسی بھی پیش رفت کیلئے مدد کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں گزشتہ ماہ میں ہی انسانی حقوق کی پامایوں پر بحث ہوئی۔سوائر کا ماننا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک طویل مسئلہ ہے اور ہم اپنا موقف دہراتے ہیں کہ ہم اس میں مدد کریں گے تاہم یہ مسئلہ آکر کار ہند پاک کو ہی حل کرنا ہے۔ah/qa

Archives