کشمیر مسئلے کا حل کشمیر، بھارت اور پاکستان کی آراء کی روشنی میں کیا جانا چاہیے نواز شریف

نئی دہلی (ثناء نیوز) وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے پاکستان ،بھارت اور کشمیر کو مسئلہ کشمیر کے تین بنیادی فریق قر ار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی ایک فریق کو نظر انداز کیا گیا تو اس دیرینہ مسئلے کے حل کی توقع کرنا فضول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے اور اس میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں آئی ہے تاہم وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رشتوں کو استوار کرنے کاخواہاں ہے حال ہی میں اپنے سعودی عرب دورے کے دوران جدہ میں بھارتی جریدے سے خصوصی انٹرویو کے دوران وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے بہتر سے بہتر رشتوں کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل میں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا تب تک نہ صرف پاک بھارت کے تعلقات میں بہتر آ سکتی ہے اور نہ ہی دونوں ممالک امن اور اقتصادی ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے اور اس میں ذرا بھر بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔نواز شریف نے واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ کشمیر مسئلے کا حل کشمیر، بھارت اور پاکستان کی آراء کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس دیرپا مسئلے کے تین اہم فریق ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم پاکستان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان میں کسی بھی فریق کو نظر انداز کیا گیا تو کسی قسم کے حل کی توقع کرنا فضول ہے ۔نواز شریف نے کہا کہ ہے کہ ان کا ملک پوری دنیا بالخصوص اپنے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ رشتوں کو استوار کرنے کا خواہاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کا متمنی ہے اور اس حوالے سے پاکستان نے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھائے ہیں۔انٹرویو میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مزید کہا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور ان کی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ آگے قدم بڑھا رہی ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح پاکستان دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے آگے آ رہا ہے اسی طرح بھارت بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے آگے آئے گا۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری تقریب میںشرکت کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوئی ملاقات نہایت ہی خوش آئندہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے ساتھ انہوں نے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی اوردوطرفہ تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے کے حوالے سے گفت و شنید کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعطم نریندر مودی نے اپنی حلف برداری تقریب پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام سارک سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جبکہ پاک بھارت وزرائے اعظم نے اس تقریب کو حاشے پر ون آن ون ملاقات بھی کی تھی اور اس ملاقات میں مسئلے کشمیر کے علاوہ باہمی تعلقات،تجارت ،سیاچن،سرحدی کشیدگی اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔نواز شریف نے ملکی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب ملک کے ہر مکتبہ فکر کے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کو حل جمہوریت میں مضمر ہے۔انہوں نے عمران خان اور طاہر القادری کے آئندہ 14 اگست کے لانگ مارچ کو تخریب کاری سے تعبیر کیا اور اس مجوزہ ریلی کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ah/qa

Archives