ریاست جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر خطرات موجود ہیں، ارون جیٹلی

نئی دہلی(ثناء نیوز)کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے تازہ واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے خبردار کیا کہ ریاست جموں و کشمیر میںآئندہ دو ماہ کے دوران دراندازی کا خطرہ برقرار ہے لہٰذا فوج کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔اس دوران انہوں نے واضح کر دیا کہ چینی فوج کی جانب سے مزید دراندازی کے خدشات کو لے کر بھی لداخ میں کنٹرول لائن پر فوج کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے ایک جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر خطرات موجود ہیں اور دراندازی کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے دراندازی کے لیے مجاہدوں کی ایک بھاری تعداد موجود ہے کیرن سیکٹر پر دراندازی کے تازہ واقعے کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نے کہا کہ فوج واقعے کے بعد الرٹ ہے اور دراندازی کرنے والے دراندازوں کو ڈھونڈ نکالنے کا کام بھی جاری ہے اور بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے تاہم انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں کشمیر میں دراندازی کا خطرہ برقرار ہے کیونکہ برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور دراندازی کے لیے درے کھل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی ماحول بھی پنپ رہا ہیے اور اس دوران سیلانیوں کی تعداد بھی کشمیر سیر پر جا رہی ہے لہٰذا اندرونی سلامتی کے لیے پولیس اور دیگر سیکیورتی ایجنسیوں کے درمیان تال میل قائم کرے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ سرحد پار سے کشمیر میں دراندازوں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی فوج کی جانب سے بھی اعانت کے بطور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کہ سراسر سیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔ مرکزی وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر میں اصل میں دراندازی وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس صلاحیت کو معقول طریقے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ جموں کے پونچھ سیکٹر میں بھی سیز فائر کی خلاف ورزی کے واقعات رونما ہور ہے ہیں۔بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ لداخ خطے میں کشیدگی کو زائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور پر امن طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کو یہ بات صاف بتا دی گئی ہے مستقبل میں دراندازی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہونگے۔وزیر دفاع نے کہا کہ فوج کے پاس اسلحہ کی کوئی کمی نہیں ہے اور جدید اسلحہ سے بھی فوج کو لیس کیا جا رہاہے۔nt/ah/qa

Archives