سوپور میں بیٹے کے بدلے والد کی گرفتاری ظلم وستم ہے ، حریت کانفرنس

سرینگر (ثناء نیوز)حریت کانفرنس گ نے سوپور میں بیٹے کے بدلے باپ کی گرفتاری اور اہل خانہ کو ملاقات نہ دئے جانے کو ریاستی ظلم و ستم اور لاقانونیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے بٹہ پورہ باغات کے شہری غلام حسن بٹ کی فوری رہائی پر زور دیا ہی۔ حریت کے مطابق حکومت خود اپنے بنائے آئین اور قانون کا بھی احترام نہیں کررہی ہے اورسرکار نے عام شہریوں پر مظالم ڈھانے کے تمام سابقہ ریکارڈ مات کردئے ہیں۔حریت ترجمان ایاز اکبر نے محمد اشرف صحرائی، شبیر احمد شاہ اور راجہ معراج الدین کی اپنے گھروں میں مسلسل نظربندی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ آزادی پسند لیڈروں کو حبس بے جا میں رکھا جانا ایک معمول بن گیا ہے اور اس کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہی۔ترجمان نے کہا کہ سوپور کے بٹہ پورہ باغات محلے کے ایک طالبعلم منصور حسن کے گھر پر 31جولائی کو چھاپہ ڈالا اور جب منصور احمد انہیں وہاں نہیں ملا تو اس نے ان کے باپ غلام حسن بٹ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا ہی، گرفتار شہری پانچ بیٹیوں کا والد ہے اور اس کی اہلیہ ایک دائمی مریضہ ہیں۔ لوگوں کے مطابق غلام حسن بٹ کی بچیوں پر تھانے میں دبا ڈالا گیا کہ وہ تحریری طور لکھ کر دیں کہ ان کا بھائی سرحد پار ٹریننگ کے لیے گیا ہی، جس پر انہوں نے پولیس کو ایک بار مطلع کردیا کہ منصور احمد سرحد پار نہیں گیا ہی، بلکہ وہ پولیس کے ڈر کی وجہ سے روپوش ہوگیا ہے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے گھر سے باہر کہیں پر ٹھہرا ہوا ہی، البتہ پولیس نے اس کے بعد بھی انہیں اپنے باپ کے ساتھ ملاقات نہیں کرائی، جس کے بعد غلام حسن بٹ کے اہل خانہ نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دھرنے پر بیٹھے لوگوں پر بھی تشدد کیا گیا اور ان پر ٹائیرگیس شل پھینکے گئی، جس کے نتیجے میں 9سال کے توفیق نبی بٹ اور 10سال کی بچی زینب بری طرح سے زخمی ہوگئی، جب سے پولیس ان کے گھر پر مسلسل چھاپے ڈال رہی ہے اور مکینوں کو تنگ طلب کیا جارہا ہی۔۔nt/ah/wa

Archives