25 رکنی پاکستانی اعلیٰ سطح کے وفد 7 سے 8اگست بھارت کا دورہ کرے گا

نئی دہلی (ثناء نیوز) بھارت پاکستان کے درمیان رکے پڑے مذاکرات کو پھر سے شروع کرنے کے لیے 25 افراد پر مشتمل پاکستانی وفد 7 سے 8اگست تک بھارت کا دورہ کرے گا۔ اعلیٰ سطح کے وفد میں وزارت خارجہ ، وزارت تجارت کے آفیسران شامل ہیں جو تجارتی تعلقات اور مسائل کو حل کرنے کے ضمن میں بھارتی وزارت خارجہ کے آفیسران کے ساتھ میٹنگ منعقد کر رہے ہیں۔بھارت پاکستان کے درمیان بات چیت کا باضابطہ طور پر آغاز ہو رہا ہے پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ 25 افراد پر مشتمل پاکستانی اعلیٰ سطح کا وفد 7 سے 8 اگست بھارت کا دورہ کر رہے ہیںتاکہ رکے پڑے مذاکرات کو پھر سے شروع کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت انڈیا پاکستان جوائنٹ فارم کے چیئرمین سنیل کانت منجل کر رہے ہیں اور وہ بھارتی وزارت خارجہ اور تجارت کے اعلیٰ آفیسران کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو حل کرنے کے ضمن میں تبادلہ خیال کریں گے۔وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت دوسرے اہم مسائل پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے تاہم بھارت کی جانب سے پاکستان کی مثبت کوششوں کا جواب نہیں دیا جا رہا ہے ۔واضح رہے کہ سال 2013ء میں پاکستان اور بھارت نے جوائنٹ فارم کا قیام عمل میں لایا اور اس فورم میں دونوں ملکوں کے صحافی، وکلاء اور سابق سفارتکار دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کو شروع کرنے کے ضمن میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کو مشورہ دیتے ہیں۔وزارت خارجہ کے مطابق آنے والے دنوں کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی سطحوں پر بات چیت شروع ہونے جا رہی ہے اور پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کے لیے بھارت پر زور ڈالے گا تاکہ اس پیچیدہ اور دیرینہ مسئلے کو حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب تک نہ کشمیر کے مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں اور آرزؤں کے مطابق حل کیا جائے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے دور دور تک امکانات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔nt/ah/qa

Archives