عمران خان کا نواز شریف کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ

عمران خان کا نواز شریف کے استعفے اور نئے انتخابات کا مطالبہ

اسلام آباد(ثناء نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جعلی مینڈیٹ کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف کے استعفیٰکا مطالبہ کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو بادشاہت کو ڈی ریل کرنے جا رہے ہیں فوری طور پر قومی انتخابات کا اعلان کیا جائے ۔فوج ہمیں تحفظ فراہم کرے گی اور جماعتیں بھی اسمبلیوںسے مستعفی ہونے کو تیار ہیں وقت آنے پر اس کا انکشاف کروں گا۔ایک لاکھ موٹر سائیکل لانگ مارچ کے آگے ہونگے محمود خان اچکزئی بتائیں کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں یا بادشاہت کے ساتھ ۔ پنجاب پولیس شریف بادشاہ کی غلام نہ بنے نظر بند کیا گیا تو سارے پاکستان کو بند کر دیں گے۔لانگ مارچ کوئی یوٹرن نہیں لے گا اسلام آباد میں فیصلہ ہو گااسمبلیوں سے استعفے معمولی بات ہیں۔آخر حد تک جائیں گے تشدد ہوا یا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تو تھانوں کا گھیراؤ کریں گے ۔ منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ فیصلہ کن مرحلہ آ چکا ہے۔14 ماہ تک کونسا ایسا فورم تھا جس پر انصاف کے لیے نہیں گئے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے۔حکمران عوام کے ٹیکسوں پر مغل اعظم کی زندگی گزار رہے ہں۔آزادی کو چھین لیا گیا ہے 14 اگست اس آزادی کی واپسی کا دن ہے جتنی بہتر جمہوریت ہو گی اتنا زیادہ آزادی کا تحفظ ہو گا۔ عدلیہ ،پارلیمنٹ ،الیکشن کمیشن ہرجگہ انصاف حاصل کرنے کی کوشش کی۔چار حلقے کھل جاتے تو انتخابی عمل کو ٹھیک کرنے کا موقع مل جاتا۔ انتخابی میچ فکسنگ کے کھلاڑیوں کو ناموں کے ساتھ گیارہ اگست کو بے نقاب کریں گے کیا نواز شریف کی پنجاب حکومت نے دودھ کی نہریں بہا دی تھیں کہ انہیں 2013ء میں دگنا ووٹ مل گئے تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی کی گئی سارا نظام کرپٹ تھا۔چیلنج کرتا ہوں کسی بھی پٹیشن پر تحقیقات کر لیں فراڈ ہی فراڈ نظر آئے گا33 حلقوں میں جیتنے والے امیدواروں کو ووٹ مسترد کر کے ہروا دیا گیا ۔ نواز شریف کی تقریر کے بعد ڈیٹا آپریٹرز نے نتائج اکٹھے کرنے کا کام بند کر دیا تھا سارے نتائج روک لیے گئے تھے۔16933 پولنگ اسٹیشنوں میں 7358 بے قاعدگیاں ثابت ہوئیں۔14 اگست کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہو گا۔ قوم کی حق پر ڈاکہ ڈالا گیا تھا حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہوتی فراڈ انتخابات کے ذریعے اس حکومت کو ملک و قوم پر مسلط کیا گیا تھا انصاف کے تمام دروازوں پر دستک دینے کے بعد سڑکوں پر آ رہے ہیں۔عمران خان نے واضح کہا کہ کسی اور کہنے پر باہر نہیں آ رہے ہیں سارے قانونی طریقے اختیار کرنے کے بعد آزادی مارچ کرنے جا رہے ہیں۔ قوم کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے انہوں نے فوری طور پر قومی انتخابات کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ڈپلومیسی کا وقت گزر چکا ہے پارٹی رہنماؤں کے کسی کے ساتھ بھی بیک ڈور چینلز سے رابطے نہیں ہ یں۔14 اگست کو جمہوریت نہیں بادشاہت کو ڈی ریل کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف فوج کے کندھوں پر سیاستدان اور وزیراعظم بنے انتخابات کے لیے آئی ایس آئی سے پیسے لیے صاف شفاف انتخابات کا مطلب حقیقی جمہوریت ہوتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو پیار سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کوئی رکاوٹ نہ ڈالے سمجھا رہے ہیں کہ وہ پنجاب اور پاکستان کی پولیس بنے شریف خاندان کے غلام نہ بنیں۔خود پنجاب پولیس بھی اندر سے بادشاہت سے تنگ آئی ہوئی ہے۔ احتجاج ہمارا آئینی جمہوری حق ہے پر امن احتجاج ہو گا بادشاہت کو بچانے کے لیے پنجاب پولیس کو استعمال کیا گیا اور گولیاں چلائی گئیں تو ان پر قتل کے مقدمات درج اور پھانسیاں دلوائیں گے۔تھانوں کا گھیراؤ کریں گے لاہور سے لانگ مارچ کے آگے ایک لاکھ موٹر سائیکل ہونگے پچاس ہزار کے رجسٹریشن کروا لی ہے مجھے نظر بند کرنے کی کوشش کی گئی تو شریف بادشاہ سن لیں سارے پاکستان کو بند کر دیں گے۔ شریف بادشاہ کو اپنے غیر جمہوری اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اچھا ہے کہ 245 کے تحت فوج کو طلب کیا جا رہا ہے فوج ہمارا تحفظ کرے گی کیونکہ ہم آزادی کا جشن منانے جا رہے ہیں آزادی کا جشن منانے میں بچے اور خواتین بھی شامل ہونگے اور انہیں بھی فوج کا تحفظ مل جائے گا۔تشدد ہوا تو حکومت ذمہ داری ہوگی۔بادشاہت کے دن ختم ہو چکے ہیں حکمران جو مرضی کر لیں عوامی سیلاب کو نہیں روک سکتے۔عوام کا جم غفیر ہو گا حکومت سے بات چیت کا وقت ختم ہو چکا ہے مذاکرات نہیں ہونگے۔وزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ دیں اور قومی انتخابات کا اعلان کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کوئی یوٹرن نہیں لے گا اسلام آباد میں فیصلہ ہو گا اسبملیوں سے استعفے معمولی بات ہیں۔آخر حد تک جائیں گے پارٹی سے تعلق والے اراکین اسمبلی کے استعفے مجھے مل گئے ہیں اور جماعتیں بھی استعفوں کے لیے تیار ہیں۔ وقت آنے پر اس کا انکشاف کروں گا۔ انقلابی مارچ اور آزادی مارچ کے راستے ہو سکتا ہے کسی مقام پر مل جائیں۔ محمود خان اچکزئی کے لیے پیغام ہے کہ وہ بتائیں جمہوریت کے ساتھ یا بادشاہت کے ساتھ کھڑے ہیں۔aa/shj/qa

Archives