شوپیاں ہلاکتیں: سی آر پی ایف کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار

سری نگر)ثناء نیوز) مقبوضہ کشمیر میں ایک انکوائری کمشن نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے مین گذشتہ برس سی آر پی ایف کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی رپورٹ جاری کر دی ہے ۔ کمشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکاروں نے شہریوں پر اندھادھند فائرنگ کی ، جیسے کہ وہ کوئی جنگ کر رہے تھے۔ جسٹس ریٹائرڈایم ایل کول نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کردی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گاگرن شوپیاں میں 7 ستمبر 2013 کو سی آر پی ایف نے فائرنگ کرکے 4 افراد کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد پوری کشمیر وادی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور کئی دن کے احتجاج کے بعد ریاستی حکومت نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ جسٹس کول کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مارے گئے 4 افراد میں سے 3 کو شہری جبکہ ایک کو عبداللہ ہارون نامی ایک جنگجو قرار دیا ہے۔ 96صفات پر مشتمل رپورٹ میں فائرنگ کے اس واقعہ کو غیر ذمہ دارانہ، اندھادھند اور گھناونا حملہ قراردیا ہے۔ شوپیاں میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب شالیمار باغ میں زبن مہتا میوزیکل شو ہورہا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ہیڈ کانسٹیبل اشوک کمار پٹھانیہ نے 26 راونڈ فائر کئے جبکہ کانسٹیبل سنتوش کمار نے 6 راونڈ فائر کئے جس کے نتیجے میں تین عام شہریوں کی موت واقعہ ہوئی جبکہ 2 زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں ایک زخمی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا، یہ واقعہ محض غیر قانونی تھا جس کے دوران سی آر پی ایف نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پوزیشن اور ڈیوٹی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے پٹھانیہ اور سنتوش نے 32 راونڈ فائرکرکے ریاست کے تین معصوم اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا، حالانکہ یہ شہری کسی بھی طور مسلحہ نہیں تھے اور نہ ہی جنگجو تھے۔ کمیشن نے سی آر پی ایف کے مذکورہ یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر سے بھی پوچھ تاچھ کی تھی۔ حالانکہ اس وقت سی آر پی ایف نے دعوی کیا تھا کہ مارے گئے افراد سے ایک پستول اور 2 گرینیڈ بھی برآمد کئے گئے جبکہ پولیس اسٹیشن شوپیاں قریب ہی واقع تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کمیشن کو اس بات پر حیرانگی ہوئی کہ سی آر پی ایف کے کمانڈنٹ نے کیسے اپنے اہلکاروں کے ذریعے پستول اور گرینیڈ برآمد کئے جبکہ پولیس کو اس جگہ تک پہنچنے میں کوئی بھی وقت نہیں لگاتھااور ایس پی و ڈپٹی کمشنر شوپیاں کو بھی اس واقعہ کے بارے میں علمیت تھی اور انہوں نے پولیس کو وہاں پہنچنے کی ہدایت دی تھی۔ کمیشن کے سامنے کمانڈنٹ نے جو بیان دیا اس میں انہوں نے کہاایس پی اور ڈی سی واقعہ کے 10 منٹ کے بعد وہاں پہنچے اور انہوں نے از خود 2 یا تین فائر کی آوازیں سنی اور اس وقت دن کے12:30بج گئے تھے۔ کمانڈنٹ شکھاوت نے کمیشن کے سامنے مزید بتایا میں نے فورا ایس پی شوپیاں کو فون پر اطلاع دی کہ کیمپ پر حملہ ہوا ہے اور دو تین منٹ کے بعد فائرنگ رک گئی اور میں فورا ہی اس جگہ پر گیا جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، ڈپٹی کمشنر شوپیاں اور ایس پی شوپیاں وہاں میرے جانے کے پانچ سات منٹ بعد وہاں پہنچے۔ جسٹس کول نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے پولیس نے جائے وقوع سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں کیا اور جو کچھ بھی وہاں پایا گیا تھا اسے سی آر پی ایف نے پولیس کے حوالے کیا تھااور یہاں یہ بات بتانا اہم ہے کہ سب انسپکٹر محمد مقبول وانی، جو واقعہ کے فورا بعد وہاں پہنچے نے اپنے بیان میں کہا پستول اور گرینیڈ انہوں نے برآمد نہیں کئے بلکہ لاشوں کے آس پاس دیگر چیزیں بھی نہیں پائی گئیں بلکہ سی آر پی ایف نے ان کے حوالے کیں۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہاگیا ہے اگر واقعہ شوپیاں سے دور کہیں رونما ہوا ہوتاتو عین ممکن تھا کہ پولیس فوری طور جائے واردات پر نہیں پہنچ پاتی ،اس صورت میں سی آر پی ایف حکام اشیاضبط کرنے میں حق بجانب تھے تاہم چونکہ یہ سانحہ شوپیاں پولیس سٹیشن سے چند گز کی دوری پر رونما ہوا ،لہذا سی آر پی ایف کیلئے اسلحہ و گولی بارود جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی جس کے نتیجہ میں کمیشن کے ذہن میں یہ شکوک پیدا ہوگئے کہ کیا متذکرہ اشیامہلوکین سے برآمد کی گئیں یا نہیں۔۔nt/ah/wa

Archives