بی ایشیا میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے،جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر

سرینگر)ثناء نیوز)کوثر ناگ کو تہذیبی جارحیت کے مترادف قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہی۔ غزہ پر اسرائیلی بربریت پر اقوام عالم اوراسلامی دنیا کی خاموشی مجرمانہ عمل ہی۔ اتوار کو جامع مسجد حاجن میں جماعت اسلامی ضلع بانڈی پورہ کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ کوثرناگ کی جانب یاترا کا منصوبہ اس سازش کا حصہ ہے جس کے تحت یہاں ہندتوا کے علمبردار زعفرانی سیاست کرکے کشمیر کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسلم اکثریتی ریاست کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کی یاترا کی آڑ میں دراصل ریاست میں ان طاقتوں کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے جو ہندوراشٹر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں اور دلی میں حالیہ اقتدار کی منتقلی نے ان طاقتوں کے حوصلہ بلند کیے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی کسی بھی یاترا کو تہذیبی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف یہاں کے تہذیب پر حملہ آور ہونے کی دانستہ کوشش ہے بلکہ اس طرح کی یاتراں سے یہاں کے ماحولیات اور آبی ذخائر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ مقف کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے پائیدار امن اور برصغیر کے کروڑوں عوام کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل ہوجانا چاہیی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں قراردادیں موجود ہیںاور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ عالمی ادارہ ان قراردادوں کو عملانے میں تاحال ناکام رہاہی۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر یہ ادارہ مظلوم انسانیت کے مسائل حل کرنے میں اسی طرح ناکام ہوتا رہے گا تو پھر اس ادارے کا فائدہ ہی کیا ہی؟انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اگر کسی وجہ سے ان قرار دادوں پر عمل پیرا ہونا ممکن نہیں ہو تو پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے جس میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندے شامل ہوں اس کا حل نکالا جانا چاہیی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان او رپاکستان اگر مختلف سطحوں پر مختلف ایشوز کے حوالے سے بات چیت کرسکتے ہیں تو کشمیری قوم کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ دونوں ممالک بیٹھ کر اس مسئلے کا حل کیوں نہیں نکال سکتے ؟ ڈاکٹر عبدالحمید نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قربانیاںدی ہیں اور جس وقت بھی اس مسئلے کے حوالے سے مذاکرات کی میز سجائی جائے گی جماعت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتااور اس مسئلہ کے حل میں تحریک اسلامی کا اہم رول بنتا ہی۔ ڈاکٹر عبدالحمیدنے کہا کہ ضلع بانڈی پورہ کی یہ سرزمین جماعت اسلامی کے شہدا کی امین ہے اور یہاں سے ہمارے ارکان اورکارکنوں نے اسلام اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت پر اقوام عالم کی خاموشی مجرمانہ ہے بالخصوص اسلامی دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہی۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہی۔ عوام اور حکمران مخالف سمتوں پر کھڑے ہیںجہاں عوام اسلام دشمن اسرائیل اور اس کے حواریوں کے خلاف واضح اور ٹھوس کاروائی کا خواہاں ہے وہیں حکمران یورپ اور امریکہ کی غلامی طوق گلے میں ڈال کر اپنے ہی عوام کو کچلنے اور دبانے کا کارِ بد انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر ہو یا پھر کوئی اور عرب مملکت یا پھر نیوکلیر پاور پاکستان ، کسی بھی سلطنت کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف بیان تک دینے کی جرات بھی نہیں ہوتی ہی۔ انہوں نے کہا کہ دراصل مشرق وسطی اور اردگرد کے دیگر مسلم ممالک کے نہ صرف وسائل پر مغرب اور امریکہ قابض ہوچکا ہے بلکہ ان کی فکر کو بھی یرغمال بنالیاگیا ہے اور اِن ہی ممالک کے حکمران امریکی برانڈ اسلام کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ اور وسائل صرف کررہے ہیں۔ڈاکٹر عبدالحمیدنے کہا کہ عام مسلمانوں کو اسرائیلی منصوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مغرب نواز حکمرانوں پر دبا بنانا چاہیے کہ وہ غزہ کے حوالے سے اسرائیل مخالف مقف اختیار کریں۔ڈاکٹر عبدالحمیدنے ریاست جموں و کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں معصوم نوجوانوں کو مختلف فرضی کیسوں کے تحت پابند سلاسل بنایا جارہا ہے اور سیاسی حقوق کی بازیابی کی بات کرنے والوں کو آئے رو ز گرفتار کیا جاتا ہی۔ انہوں نے گرفتاریوں کا سلسلہ فوری طور بند کرکے جیل میں بندپڑے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہی۔انہوں نے میں ریاست جموں و کشمیر میں مسلکی منافرت پھیلانے والی طاقتوں کو خبردار کیا کہ وہ ملت کو بانٹنے کا کارِ بد انجام دینے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ دوسرے لوگوں کو گمراہ قرار دے کر خالص اپنے آپ کو ہی حق کا علمبردار کہہ کر دراصل اسلام دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ ملی اتحاد کا ہر مرحلے پر مظاہرہ کریں اور ملت اسلامیہ کو درپیش چلینجزوں کو سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے آگے آئیں۔اس سے قبل اجتماع میں امیر جماعت اسلامی جموں و کشمیر محمد عبداللہ وانی نے درس قرآن پیش کیا جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی نذیر احمد رعنا نے درس حدیث پیش کیا۔ ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبہ عمر سلطان نے نوجوانوں سے خطاب کرکے انہیں ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی۔ نماز عصر کے ساتھ ہی اجتماع اختتام پذیر ہوا۔۔nt/ah/wa

Archives