جماعت اسلامی پاکستان کا 10 اگست کو لبیک قبلہ اول ریلی 17 اگست کو ’’غزہ ملین مارچ‘‘ اور یوم فلسطین کا اعلان

جماعت اسلامی پاکستان کا 10 اگست کو لبیک قبلہ اول ریلی 17 اگست کو ’’غزہ ملین مارچ‘‘ اور یوم فلسطین کا اعلان

اسلام آباد(ثناء نیوز)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے عوامی ایجنڈے کو موخر کرتے ہوئے اسرائیلی وحشیانہ جارحیت کے خلاف فلسطین کے مظلوم سے بھر پور یکجہتی کے لیے موثر قومی مہم کا اعلان کر دیا ہے10 اگست کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں لبیک قبلہ اول ریلی 17 اگست کو فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کراچی میں ’’غزہ ملین مارچ‘‘ اور یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان سے اہل غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ ظلم و بربریت کے خلاف اسلام آباد میںاسلامی ملکوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور فلسطین کے مظلوموں کا بھر پور ساتھ دینے کے لیے پاکستان ، سعودی عرب اور ایران سے اسلامی دنیا کو متحد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔حکومت پاکستان عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت کی حیثیت سے اُمت کی ترجمانی اور رہنمائی کرے۔فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی اجلاس بلا کر صہیونی درندے کے خلاف عملی اقدامات کا اعلان کرے صہیونی ریاست پر عالمی قوانین کے مطابق پابندیاں لگوانے اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر عالمی عدالت میں اس پر مقدمہ چلوانے کی بھرپور کوشش کرے۔اہل غزہ کو پاکستانی قوم کی طرف سے ایک کروڑ کی پہلی قسط ارسال کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے 60 ہزار ڈالر مالیت کی 6 ایمبولینسز بھجوانے کا انتظام بھی کیا جارہا ہیان خیالات کا اظہار سراج الحق نے پیر کو اسلام آباد میں جماعت کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ آزاد کشمیر سمیت صوبوں کے امراء نائب امرا اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے تمام سیاسی جماعتوں کو فلسطین کے حق میں قومی مہم میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت سے 17 اگست کو یوم فلسطین قومی سطح پر منانے میں ساتھ دینے کی دعوت دے دی ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ فلسطین کے لیے حکومت پاکستان نے ا سلا می ممالک کا سربراہی اجلاس نہ طلب کیا تو جماعت اسلامی دنیا بھی سے تمام اسلامی تحریکوں کے سربراہان کو جمع کرنے کا اقدام اٹھائے گی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ کے مظلوموں کے لیے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل خطوط لکھ دیئے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ غزہ گزشتہ سات سال سے مکمل طور پر محصور ہے۔ اسی محصور غزہ کے خلاف گزشتہ28 روز سے جاری بدترین صہیونی جارحیت نے، درندگی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ساڑھے اٹھارہ سو شہداء اور دس ہزار سے زیادہ زخمی پوری انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہیں۔ زخمیوں اور شہداء میں سے %50 سے زائد بچے خواتین اور بوڑھے یا معذور افراد شامل ہیں۔ اسرائیل کی تمام تر جارحیت کے باوجود امریکا اور عالمی برادری مظلوم اہل غزہ کے بجائے صہیونی جارحیت کی سرپرستی کررہی ہے۔ اور تو اور مصری فوجی ڈکٹیٹر جنرل سیسی کی سربراہی میں کئی مسلم ممالک بھی مظلوم اہل غزہ اور سرزمین اقصیٰ کے بجائے، ناجائز صہیونی ریاست کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ غزہ مصر بارڈر بدستور فلسطینی زخمیوں اور پناہ گزین بچوں اور خواتین کے سامنے بند ہے۔ گزشتہ روز 3، اگست کو بھی کئی بچے، مصری رفح بارڈر پر اس لیے دم توڑ گئے کہ صہیونی بمباری سے شدید زخمی ہونے پر انہیں علاج کے لیے مصری ہسپتالوں میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دنیا کی کئی امدادی تنظیموں اور طبی ٹیموں نے غزہ جانے کی کوشش کی، مصر نے انہیں بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔اس تمام تر ہلاکت خیزی کے باوجود اہل غزہ اپنے حق سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اہل غزہ کا عزم و ہمت دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ صرف وہ آزاد ہیں اور باقی پوری دنیا استعمار کی اسیر اور غلام ہے۔ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں کے عوام گزشتہ 66 سال سے اُمت مسلمہ کے قبلۂ اول کو آزاد کروانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں صرف گزشتہ 6 سال میں تین مہلک جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہمارے عظیم بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کی قربانیوں کی بدولت ہر آنے والی جنگ گزشتہ سے سنگین ہونے کے باوجود ان کے عزم و ہمت میں مزید مضبوطی و ثبات کا ذریعہ بنی ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے بھی عظیم فلسطینی قوم کی رہنمائی اور ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری اُمت مسلمہ قبلۂ اول کی بازیابی اور مظلوم فلسطینی عوام کی بھرپور اور عملی پشتیبانی کرے۔ مسلمان ممالک اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آزادی أقصیٰ کے یک نکاتی ایجنڈے پر یک جان ہوجائیں۔ جماعت اسلامی پاکستان نے اس ضمن میںمسلمان سربراہان مملکت کے نام خطوط لکھ کر بھی انہیں اپنے فرائض کی یاددہانی کروائی ہے۔ حماس کے سربراہ خالد المشعل سے بھی تفصیلی گفت و شنید ہوئی ہے۔ہم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے نام بھی خط لکھا ہے کہ اس موقع پر بھی خاموش رہ کر صہیونی جارح کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔سراج الحق نے کہا کہ ہم اس موقع پر اہل فلسطین کی آواز پہنچاتے ہوئے اہل پاکستان اور حکومت پاکستان سے پرُزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالم اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت کی حیثیت سے اُمت کی ترجمانی اور رہنمائی کرے۔فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی اجلاس بلا کر صہیونی درندے کے خلاف عملی اقدامات کا اعلان کرے، اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرے اور صہیونی ریاست پر عالمی قوانین کے مطابق پابندیاں لگوانے اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر عالمی عدالت میں اس پر مقدمہ چلوانے کی بھرپور کوشش کرے۔ حکومت پاکستان اسلامی برادر ملک مصر سے رابطہ کرکے رفح بارڈر مستقل طور پر کھلوائے اور اس راستے سے تباہ حال اہل غزہ کو بھرپور امدادی سامان ارسال کرے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ ترکی اور قطر نے دیگر کئی مسلمان ملکوں سے بڑھ کر اہل غزہ کی مدد کی ہے۔ صہیونی وزیراعظم اسی وجہ سے ان دو برادر مسلم ریاستوں کو دھمکیاں رے رہا ہے۔ ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی ان دو برادر ملکوں کے ساتھ مل کر سعودی عرب، ایران اور دیگر مسلم ممالک کو اہل غزہ کی امداد کے یک نکاتی ایجنڈے پر جمع کرنے کی کوشش کرے۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان اس موقع پر اہل غزہ کو پاکستانی قوم کی طرف سے ایک کروڑ کی پہلی قسط ارسال کرنے کا اعلان کرتی ہے علاوہ ازیں 60 ہزار ڈالر مالیت کی 6 ایمبولینسز بھجوانے کا انتظام بھی کیا جارہا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ پاکستانی عوام اس ضمن میں مزید تعاون جاری رکھیں گے۔عوامی یکجہتی اور اہل غزہ کی سیاسی پشتیبانی کے لیے ان شاء اللہ 10 اگست کو اسلام آباد میں ’’لبیک یا قبلۂ اول‘‘ کے عنوان سے شاندار عوامی ریلی نکالی جائے گی۔ہم پوری قوم، حکومت پاکستان، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں،حقوق انسانی کی تنظیموں ، این جی اوز اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ 17 اگست کو قومی یوم أقصیٰ منا نے کا اعلان کریں۔ اپنی غیرت ایمانی کا ثبوت دیں اور دنیا کو بتادیں کہ وہ کسی صورت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اسراء و معراج سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔pr/aa/shj/qa

Archives