مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت پالیسی سازوں کے درمیان مذاکرات

مسئلہ کشمیر پر پاکستان بھارت پالیسی سازوں کے درمیان مذاکرات

اسلام آباد(ثناء نیوز) مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے پاکستان بھارت پالیسی سازوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ان ڈور دور ہوئے جبکہ اس حوالے سے بین الاقوامی ادارے بھی زبردست دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ ماہ مسئلہ کشمیر سمیت کئی اہم مسائل حل کرنے کے حوالے سے خفیہ میٹنگو کا اہتمام ہوا جس میں نہ صرف سرکردہ پالیسی سازوں بلکہ دونوں ملکوں کے سابق وزرائے خارجہ اور سفیروں نے بھی حصہ لیا جبکہ معاملے پر بین الاقوامی ادارے بھی زبردست تعاون پیش کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جولائی کے آغاز میں سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید اور کانگریس کے سرگرم لیڈر منی شنکر آئیر نے ایک وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک بین الاقوامی تنظیم کے عہدیداروں کے ہمراہ پاکستان کے سرکردہ لیڈروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل پر بات چیت کی۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری ان رہنماوں میں شامل تھے جن کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے لیے ایک ایسا روڈ میپ تشکیل دینے کی بات کی گئی جو نہ صررف بھارت اور پاکستان بلکہ کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھارتی وفد کے ممبران سے الگ الگ بھی ملاقاتیں کیں۔اس کے علاوہ بھارتی وفد نے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے سابق ہائی کمشنرز سے بھی بات چیت کی۔ بھارتی اخبار کے مطابق خفیہ طور میٹنگوںمیں ’’کونسل فارفارن پالیسی‘‘ کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے جس نے پہلے ہی کشمیر کے بارے میں الگ روڈ میپ تشکیل دیا ہے۔ذرائع کے مطابق پالیسی سازوں نے مسئلہ کشمیر پائیدار حل کے لیے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور وزیرخارجہ سرتاج عزیز سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا ماننا ہے کہ بھارت اور پاکستان تاریخ کے ایک اہم موڈ پر کھڑے میںجبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی وقت موزوں ہے۔کئی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ قصوری نے حالیہ دو ماہ کے دوران مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت سے وابستہ لیڈروں کے علاوہ کئی بین الاقوامی اداروں سے بھی بات چیت کی ہے اور حالیہ خفیہ میٹنگوں کا سلسلہ ان کی ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔امکان ہے کہ خورشید قصوری مذاکرات کا ایک اور راؤنڈ کرانے کے لیے بھارت آرہے ہیں جس دوران ان کے ہمراہ ایک وفد بھی ہو گا تاہم اس پورے معاملے کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔nt/ah/qa

Archives