پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ستمبر میں ملاقات کی تیاریاں

نئی دہلی(ثناء نیوز)پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ستمبر میں ملاقات کے لیے دونوں ملکوں میں تیاریاں شروع ہوگئی ہیں ۔ بھارتی اخبار کے مطابق نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ملاقات کے لیے سرگرمیاں دونوں ملکوں میں تیز ہو گئی ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کشمیر،سیاچن، سرکریک، تجارت اور دوسرے مسائل کو حل کر نے کے لیے ایجنڈوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں میڈیا رپورٹوں کے مطابق 27 ستمبر کو وزیراعظم نریندر مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریںگے۔وہ امریکی صدر سمیت دنیا کے کئی حکومتی اور ملکی سربراہوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔بھارت پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے مسائل کو حل کرنے کے لیے پیش رفت اس وقت ہوئی جب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں انکشاف کیا گیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 27 ستمبر کو خطاب کریں گے۔وزیراعظم بھارت کے دورے امریکہ کے دوران وہ اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے ساتھ بھی میٹنگ کرنے والے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ بھی الگ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کے خارجہ امور کے وزیر سرتاج عزیز نیو یارک میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کریں گے جس میں دونوں ملوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے، تعلقات کو بہتر بنانے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس میٹنگ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سرکریک ،سیاچن اور کشمیر کے معاملے پر بھی ایک دوسرے کے نقط نگاہ کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی اور اس بات کے قومی امکانات موجود ہیں کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں وزرائے خارجہ کی جانب سے ملاقات کے دوران جن امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا ان کا خلاصہ میٹنگ میں پیش کیا جائے گا۔ نریندر مودی اپنے پہلے امریکی دورے کے دوران صدر باراک اوباملہ کے علاوہ سعودی عرب ،ایران اور دوسرے عرب ملکوں کے علاوہ یورپی ممالک کے سربراہان سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان نیو کلیئر ڈھیل کے علاوہ دو طرفہ تعلقات اور تجارت کو مزید فروغ دینے کے سلسلے میں بھی میٹنگوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔nt/ah/qa

Archives