کوثر ناگ مجوزہ یا ترا،پائین شہر محصور، وادی میں ہڑتال

سرینگر (ثناء نیوز)کوثر ناگ کو یاترا مقام بنانے کے خلاف وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ متنازعہ یاترا کے خلاف ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر پائین شہراور اہر بل میں کرفیو جیسی بندشوں کے بیچ نارہ بل، بانڈی پورہ اور گاندربل میںپتھراو کے واقعات پیش آئے۔اس دوران مزاحمتی لیڈران کو انکے گھروں میں نظر بندیا حراست میں رکھا گیا۔ حریت کانفرنس گ کے چیئر مین سید علی گیلانی اور حریت (جے کے) نے کوثر ناگ مجوزہ یاترا کے منصوبے کیخلاف ہڑتال کی کال دی تھی جس پر سرینگر سمیت وادی کے تمام قصبہ جات میں کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں۔ سرینگر میںدکانیں، کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز،سرکاری و غیر سرکاری سرکاری ادارے بند رہے جبکہ ٹرانسپورٹ معطل رہا۔ شہر میںکئی روٹوں پر پرائیویٹ گاڑیاں چلتی رہیں جبکہ سرینگر اور مختلف اضلاع کے درمیان چلنے والی مسافر بسوں کی سروس متاثر رہی تاہم کچھ روٹوں پر سومو گاڑیاںچلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔ ممکنہ حتجاجی مظاہروںاور امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں خانیار، نوہٹہ، رعناواری، صفاکدل اور مہاراج گنج کے حدود میں آنے والے علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ دوران شب ہی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی بھاری پیمانے پر تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر قدغن عائد کرتے ہوئے کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئی تھیں۔ نوہٹہ ،سکہ ڈافر ، نوا کدل ، کاوڈارہ ،نالہ مار روڑ، خانیار ، راجوری کدل ، اسلامیہ کالج ، پاندن ، خواجہ بازار، رنگر سٹاپ ،بہوری کدل ، صراف کدل ، بابہ ڈیمب ، حول ، گوجوارہ اور دیگر ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں گھروں کے اندر رہنے کے لئے کہا گیا۔بندشوں کے دائرے سے باہر علاقوں میں ہر طرح کی کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔ مجموعی طور پر شہر اور اسکے مضافات میں معمول کی زندگی مفلوج رہی۔کولگام سے خالد جاوید نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ میں مکمل ہڑتال سے سول کرفیو جیسی صورتحال نظر آرہی تھی ۔قصبہ میں ہر طرح کا کاروبار ٹھپ رہنے اور ٹرانسپورٹ معطل رہنے سے قصبہ گذشتہ4روز سے سنسان ہے۔دھمال ہانجی پورہ اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی ۔واضح رہے کہ چند روز قبل اہر بل میں کوثر ناگ یاترا کے خلاف پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے تناظر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔کھڈونی اور کیموہ میں مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا اور ہڑتال کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو روک لیا۔اسلام آباد قصبہ میں فیقد المثال ہڑتال سے معمولات اندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔ بجبہاڑہ ،ڈورو،ویری ناگ،مٹن ،سیر ،عشمقام ،آرونی ، سری گفوارہ اور دیگر علاقوں میں ہڑتال رہی جس دوران ان علاقوں دکانیں بند اور ٹریفک کی نقل و حرکت مفلوج رہی۔بانڈی پورہ سے عازم جان نے اطلاع دی ہے کہ گلشن چوک بانڈی پورہ اور قمریہ چوک گاندربل میں پتھراو کے معمولی واقعات بھی پیش آئے جبکہ دونوں اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی ۔سوپور قصبہ میں ہڑتال رہی اور سیکورٹی کے اضافے دستے بھی تعینات کئے گئے تھے۔سرینگر گلمرگ شاہراہ پر نار بل کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے نزدیک گاڑیوں اور فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمدورفت کچھ دیر کے لئے رک گئی۔بعد میں پولیس اور فورسز نے مشتعل نوجوانوں کا تعاقب کرکے انہیں بھگا دیا اور شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔ بارہمولہ،کپوارہ،بڈگام پلوامہ ، شوپیان اوروادی کے دیگر قصبہ جات میں بھی ہڑتال رہی۔دریں اثناممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کے تینوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا۔ان میں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور شبیر احمد شاہ کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ محمد یاسین ملک کو گرفتار کیا گیا ہے ۔nt/ah/qa

Archives