پاکستان جمہوری دہشت گردی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا،سردار عتیق احمد خان

راولپنڈی(ثناء نیوز)آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان جمہوری دہشت گردی کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ شریف برادران نے ساری قوم کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے ۔شریف برادران کا استعفیٰ موجودہ بحران کا مناسب حل ہے ۔ہندوستان سے غیر مشروط دوستی قومی خود کشی کے مترادف ہے۔موجودہ جمہوریت ہر ذی شعور کے لئے نا قابل قبول ہو چکی ہے۔ عوام الناس جمہوریت کے لئے اپنی قربا نیوں کاکوٹہ پورا کر چکے ہیںاب عوام ہی نہیں حکمرانوں کی قربانی کا مرحلہ ہے۔عمران خان اورڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے ۔موجودہ عوامی تحریک کو پر امن راستہ دینا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی بدامنی کی تمام تر ذمہ داری نواز زرداری گٹھ جوڑ پر ہے۔ موجودہ اندازحکمرانی نے ملکی سالمیت اور وحدت کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔نواز زرداری منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کا نظریاتی تشخص تحلیل کرنا چاہتے ہیں۔نواز زرداری جمہوریت اور میثاق جبر نے جمہوریت کے نام پر ساری قوم کو یر غمال بنا رکھا ہے۔مسلح افواج پاکستان اور محب وطن قوتیں ملکر قوم کو پارلیمانی جمہوری جبر سے آزاد کریں۔ سردار عتیق احمد خان نے ان خیالات کا اظہار اتوارکو مجاہد منزل آنے والے سیاسی وسماجی راہنماؤں و کارکنان کے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔جن میں محترمہ مہرالنساء،راجہ محمد یاسین خان ،سردار عبدالرازق ایڈوکیٹ ،چوہدری ظہور الہی ،سردار سعید انقلابی ،چوہدر ی محمد اکبر اور دیگر شامل تھے۔صدر مسلم کانفرنس نے کہا کہ اسلام آباد میں میاں نواز شریف اور لاہور میں میاں شہباز شریف کا استعفیٰ حالات سلجھانے میں مدد دے سکتاہے ۔موجودہ تحریک کو راستہ نہ دیا گیا تو ملک ایک خونریز ہنگامہ آرائی سے دو چار ہوسکتا ہے۔پاکستان کے موجودہ بحران کا ملبہ فوج پر ڈالنے سے گریز کیا جائے ۔فوج کو اسلام آباد میں بلوانا دانشمندی کا تقاضہ نہیں ۔تاہم اسلام آباد میں آنے کے بعد فوج کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مسلح افواج پاکستان محب وطن قوتوں کی آخری امید ہیں۔انھوںنے کہا کہ اگر فوج شمالی وزیر ستان میں عسکری دہشت گروں کاخاتمہ کر سکتی ہے تو اسلام آباد میں جمہوری دہشت گردی کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ شمالی وزیرستان کے بعد اسلام آباد اور لاہور میں امن کا قیام ناگزیر ہے ۔سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ نواز زرداری گٹھ جوڑ میثاق جمہوریت کے بجائے میثاق جبر ثابت ہوا ہے۔حکمرانوں کے آمرانہ رویوں نے عوام الناس کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔نواز حکومت کے دور میں بطور ایک ملک کے پاکستان کا تصور کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ۔۔انھوں نے کہا کہ نریندر مودی جیسے انتہا پسند رہنما سے ملاقات میں شلوار قمیض شیر وانی اور جناح کیپ کا استعمال نہ کرکے نوازشریف نے پاکستانی قیادت کے وقار اور تاریخی تصور کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ نواز حکومت مسئلہ کشمیر ،پاکستان کے آبی حقوق،دفاعی ایٹمی صلاحیت اور پاک چین تعلقات سب کی قیمت پر ہندوستان سے دوستی کر نا چاہتی ہے۔ہندوستان سے غیر مشروط دوستی قومی خودکشی کے مترادف ہے۔ مسلم کانفرنس جنوبی ایشیاء سمیت دنیا کے ہر ملک کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات کی خواہش مندہے۔ تاہم مسئلہ کشمیر اور پاکستان کے بنیادی قومی مفادات کی قیمت پر قائم تعلقات دیر پا ثابت نہیں ہو سکتے ۔پاکستان میں سیاسی گھٹن آج اپنے عروج پر ہے ۔اگر موجودہ گلے سڑے اور بدبو دار جمہوری نظام کو بچانا ہے تو اس کے لیے بھی شریف برادران کااستعفیٰ درکار ہے۔بصورت دیگر حکومت کی طرف سے لچک اور نرمی کا مظاہر ہ نہ کیا گیا توعوامی غیض و غضب موجودہ رسوائے زمانہ جمہوری نظام سمیت سب کو بہا کر لے جائے گا ۔حکمرانوں کی نااہلی نے افواج پاکستان کی آزمائشوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے ۔افواج پاکستان کو اس وقت ہر خاص و عام کی بھر پو ر تائید و حمایت حاصل ہے ۔سارا ملک اس وقت اپنی قومی فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔افواج پاکستان ملک کو جمہوری دہشت گردی کے پنجے سے جتنا جلد آزاد کروا سکیں اتنا بہتر ہے۔سردار عتیق کے ساتھ مجاہد منزل میں کوٹلی سے راجہ عثمان،مرزا عامر،مرز ا اشرف ،راجہ عدیل نیلم ویلی سے پریس کلب کے صدر محمداقبال پیرزادہ عطاء الرحمان ،گوجرانوالہ سے سردار منشی خان،سردار گلفراز،سردار ذوالفقار،سردار اشفاق اور دیگر نے بھی ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔pr/ab/qa

Archives