کوثر ناگ یاترا مسلم آبادی کی شناخت بگاڑنے کی کوشش ہے، جماعت اسلامی

سرینگر (ثناء نیوز)جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے کوثر ناگ یاترا کوریاستی عوام کے خلاف تہذیبی جارحیت کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے ماحولیات کے لئے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہی۔جماعت کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ کوثر ناگ جو کہ جنوبی کشمیر میں سب سے اہم آبی ذخیرہ کے طور پر شمار کیا جاتا ہے اور جس سے ریاستی عوام کو پانی کی فراہمی ممکن ہوپاتی ہی کو فرقہ پرست عناصرکی طرف سے یاترا کے لیے منتخب کرنا اصل میں ریاست جموں وکشمیر کے ماحولیات اور آبی ذخائر کے لیے انتہائی تباہ کن ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کی مسلم آبادی کی شناخت کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی اس کی بھر پور مذمت کرتی ہی۔ترجمان کے مطابق کوثر ناگ کی یاترا سے یہاں کے ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہوں گے اور جس کا خمیازہ یہاں کے ہی لوگوں کو بھگتنا پڑے گا،اصل میں فرقہ پرست طاقتیں اپنے منصوبوں کو عملانے کی خاطرریاست جموں کشمیر کو ایک میدان جنگ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کوثر ناگ یاترا کا سہارا لے کر یہاںکی مسلم شناخت، کلچر اور اس کی تہذیب پر اپنی تہذیب قائم کرنا چاہتے ہے اور اس کومعمولی سی یاترا کے بجائے سیاسی ہتھیارکے طور پر بھارت بھر کے عوام کو اس کی طرف راغب کررہی ہے اور یہاں کے عوام کی پرواہ کئے بغیر اپنا مکروہ ایجنڈا پورا کرنے کی خاطر ایسی یاتراؤں کا سہارا لے کر کشمیر پر اپنا قبضہ مزید مستحکم کررہی ہی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت اسلامی اس مکروہ منصوبے کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو ریاستی عوام کے خلاف تہذیبی جارحیت کا حربہ قرار دیتی ہے اور اقتدار پر براجمان لوگوں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں بصورت دیگر تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔nt/ah/qa

Archives