افغانستان:ووٹوں کی جانچ پڑتال کا عمل ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار

کابل(ثناء نیوز)افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ کی جانب سے انتخابات میں مبینہ فراڈ کے تدارک کے طریقہ کار پر اختلاف سامنے آنے اور ووٹوں کی جانچ پڑتال کے عمل میں ایک مرتبہ پھر تعطل کے بعد اس عمل کے احیا کی کوششیں جاری ہیں۔افغانستان میں حالیہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے بعد دونوں امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے بے قاعدگیوں اور دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی اپنی فتح کا اعلان کر دیا تھا، جس کے بعد اس شورش زدہ ملک میں سیاسی ڈیڈلاک کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم جون کی 14 تاریخ کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی سفارتی کوششوں کے بعد ان دونوں رہنماں کے درمیان یہ اتفاق رائے طے پایا تھا کہ ڈالے گئے 8.1 ملین ووٹوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور اس کے بعد سامنے آنے والے نتیجے کا دونوں رہنما احترام کریں گے۔ ووٹوں کی جانچ پڑتال پر اتفاق رائے کے باوجود دونوں رہنماں کے درمیان متعدد معاملات پر اختلافات کی وجہ سے جانچ پڑتال کا عمل مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ کس بنیاد پر کسی ووٹ کو درست یا غلط قرار دیا جائے۔اس سے قبل اقوام متحدہ اور افغانستان کے خودمختار الیکٹورل کمشین IEC نے اعلان کیا تھا کہ دونوں رہنما ہفتے کے روز سے ووٹوں کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوبارہ آغاز پر رضامند ہو گئے ہیں، تاہم عبداللہ عبداللہ کے نمائندے ہفتے کو اس عمل میں شمولیت کے لیے کابل میں قائم الیکشن کمیشن کے دفتر نہیں پہنچے۔ عبداللہ عبداللہ کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران کسی ووٹ کے کالعدم قرار دیے جانے کی بنیاد طے پانے تک وہ اس عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔ عبداللہ عبداللہ کے اس ترجمان نے ہفتے کے روز کہا، افغان الیکشن کمیشن اقوام متحدہ کی تجاویز پر رضامند ہو گیا ہے، تاہم ہمارے تحفظات ابھی باقی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا، آج اس عمل کے آغاز میں شریک نہ ہونا، نہ بائیکاٹ تھا اور نہ ہی اس عمل کو روکنے کی کوئی کوشش۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس جانچ پڑتال کے لیے واضح بنیاد کا طے ہونا ضروری ہے۔nt/ah/qa

Archives