اگست کے خاتمے سے پہلے حکومت کا خاتمہ ہوگا ، طاہر القادری

اگست کے خاتمے سے پہلے حکومت کا خاتمہ ہوگا ، طاہر القادری

لاہور (ثناء نیوز) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ اگست کے خاتمے سے پہلے پاکستان کی موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ میاں نواز شریف کو خود فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ خود پہلے جائیں گے یا شہباز شریف ۔ انہوں نے 10 اگست کو ماڈل ٹاؤن میں یوم شہداء کی تقریب میں ملک بھر سے کارکنوں کو طلب کر لیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ جائے نماز ، قرآن پاک اور تسبیح ساتھ رکھیں ۔ پولیس کی جانب سے روکے جانے پر مزاحمت کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یوم شہداء کی تقریب پرامن ہو گی تاہم اگر کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا تو یوم شہداء ماڈل ٹاؤن میں نہیں جاتی عمرہ کے محل میں منایا جائے گا ۔ اتوار کے روز ماڈل ٹاؤن میں جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یوم شہداء کی تقریبات پرامن ہوں گی تاہم اگر پنجاب پولیس نے کریک ڈاؤن کیا ۔ کارکنوں کو آنے سے روکا تو پھر حالات مختلف ہوں گے انہوں نے پنجاب پولیس سے کہا کہ شریف برادران کے مقدمہ میں فریق نہ بنیں ان کے غیر جمہوری حکم کو بھی نہ مانیں ۔ انہوں نے کارکنوں کو حکم دیا کہ بدمعاش پولیس والوں کی لسٹیں بنا لی جائیں جو پولیس والا تحریک کے کسی کارکن کے گھر میں گھسے کارکن اس کے گھر میں گھس جائے اور جو پولیس والا قانون کا پابند ہو اس کا احترام کیا جائے اور اس کو میرا سلام پہنچایا جائے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شہبازشریف سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث ہیں، فون کالزکی ریکارڈنگ موجود ہیں، جو وقت آنے پرظاہرکی جائے گی۔منہاج القرآن سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی ذمے داری کوئی قبول نہیں کررہا،جمہوریت اورآئین کے قتل کی ذمے داری کیسے قبول کریں گے۔ طاہرالقادری نے کہا کہ حکمرانوں نے سانحیمیں ملوث پولیس افسران کو بیرون ملک فرار کرا دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نیآئین وقانون کاراستہ اپنایا، نامزد ملزموں کیخلاف ایف آئی آر کی درخواست دی، امن کے خاطرکوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا،چاہتے تو رائیونڈ میں جاتی امرا کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے اور پنجاب حکومت کیخاتمیتک شہداکونہیں دفناتے اور احتجاج کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں، مغربی ممالک بتائیں،لاہورجیسا واقعہ انکیملک میں ہوتا توکیاحکومتیں مستعفی نہیں ہوتیں۔لاہور: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ مغربی دنیا کو یہ مغالطہ ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی عمل داری ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوام کی زندگی مغربی دنیا کے کتوں سے بھی بدتر ہے،شریف برادران اپنا محل بچانا چاہتے ہیں تو مظلم کا دروازہ بند کردیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اس وقت ملک میں دو مقدمات چل رہے ہیں ، ایک مقدمہ لاہور ہے اور دوسرا مقدمہ اسلام آباد، مقدمہ لاہور 14 شہادتوں اور 90 افراد پر اقدام قتل کا مقدمہ ہے، مقدمہ اسلام آباد 18 کروڑ عوام کے معاشی ، سماجی اور سیاسی قتل کا مقدمہ ہے۔ مقدمہ لاہور کا فیصلہ قصاص اور مقدمہ اسلام آباد کا فیصلہ انقلاب ہے۔ مقدمہ لاہور کی ایف آئی آر اب تک کاٹی نہیں جاسکی، شہدا کے ورثا کا اصل حق تھا کہ وہ ایف آئی آر کٹوانے کے لئے قانون کے دروازے کھٹکھا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کو یہ مغالطہ ہے کہ یہاں قانون اورآئین کی حکمرانی ہے، درحقیقت پاکستان کے عوام کی زندگی مغربی مملاک کے کتوں سے بھی بدتر ہے۔ اگر وہاں کسی علاقے کا حاکم بھی کتے کو گولی مار دے تو اقتدار میں نہیں رہ سکتا اور یہاں 16 انسانوں کو قتل کیا گیا لیکن ایف آئی آر نہی کاٹی جارہی۔ اگر یہ حادثہ مغربی ممالک میں ہوتا تو کیا ہوتا۔ پنجاب کی ایلیٹ فورس کے انچارج عبدالرف نے اعتراف کیا ہے کہ ایس ایم جی کے 479 اور جی 3 کے 59 فائر کئے گئے۔ میڈیا نے ان میں سے کچھ افراد کی شناخت کرائی تو انہیں حکمرانوں نے حراست میں لینے کے بعد بیرون ملک فرار کرادیا۔ انہیں ایسی فون کالز کا ریکارڈ ملا ہے جس سے شہباز شریف کے سانحہ ماڈل ٹان میں براپہ راست ملوث ہونے کا ثبوت ثابت ہوگیا ہے۔ڈاکٹرطاہرالقادری کا کہنا تھا کہ 17 جون کو لاہور میں شریف برادران کے حکم پر ہمارے کارکنوں پرریاستی جبر و تشدد کیا گیا اس کی مثال پوری دنیا کی جمہوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وقت اگر ہم چاہتے تو حکومت پنجاب کے خاتمے تک جنازوں کو دفنانے سے انکار کرتے اور اتنا بڑا دھرنا دیتے ان کی حکومت کے خاتمے تک ان کا دھرنا ختم نہ ہوتا۔ پورا پاکستان یا کم از کم لاہور کو سیل کردیتے، اگر چاہتے تو جاتی امرا کے محل کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے اور پوری قوم ہمارے ساتھ تھی مگر ہم نے امن کی خاطر ایسا نہیاں کیا۔ ہم نے آئین اور قانون کا راستہ اپنایا ، ہم نے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی درخواست کی۔ ہم نے ڈیڑھ ماہ قانون کا دروازہ کھکھٹایا مگر حکمرانوں نے ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی۔ اور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کردی گئی ہے ساری کارروائی اسی پوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وطن واپسی پر 14 سو افراد پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ان میں وہ 53 افراد بھی شامل ہیں جو مسجد میں نماز فجر ادا کررے تھے۔ اس وقت اگر ہم چاہتے تو اسلام آباد ایئرپورٹ پر قبضہ کرلیتے مگر ہم نے آئین و قانون کو ترجیح دی۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹان کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے 10 اگست کو یوم شہدا منایا جائے گا۔ ہر آنے والا اپنے ساتھ قرآن پاک، جائے نماز اور تسبیح لائے، وہ ضمانت دیتے ہیں کہ یوم شہدا انتہائی پر امن ہوگا، حکومت پنجاب یا وفاق نے یوم شہدا میں شرکت کے لئے آنے والے افراد کو روکا گیا تو یوم شہدا ماڈل ٹان میں نہیں جاتی امرا کے محل میں منایا جائے گا۔ پونے دو ماہ سے وہ صبر کررہے ہیں لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ہم ہم آزادی والے لوگ نہیں انقلاب والے لوگ ہیں، ہم تمام شہیدوں کے خون کا بدلہ لیں گے۔ ہم پر امن ہیں مگر پر امن شہریوں کو کوئی تنگ نہ کرے اور کارکن امن کو چوڑیاں نہ پہنیں۔ اس اگست کے بعد موجودہ حکمران نہیں رہیں گے۔ اس لئے پولیس اہلکار سوچ سمجھ کر حکمرانوں کے احکام مانیں۔ah/jk

Archives