کوثر ناگ یاترا کے کی کوشش انتہائی مہلک اور تباہ کن ہو گی،حریت قائدین

سرینگر (کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند قیادت سید علی گیلانی، محمد یاسین ملک ،نعیم احمد خان اور حریت(ع)نے کوثر ناگ یاترا کے نام پر ایک اور مقام کی نشاندہی قرار دینے کی کوشش کو جموں کشمیر کے ماحولیات اور آبی ذخائر کے لیے انتہائی مہلک اور تباہ کن قرار دیا ہے۔ سید علی گیلانی نے ہے کہ دلی کے حکمران یہاں کے ہند نواز سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت تہذیبی جارحیت کے ذریعے ریاست کی شناخت ، کلچر اور اقدار کو ختم کرکے اپنی تہذیب کی چھاپ کو زبردستی یہاں پر قائم کرانا چاہتی ہیں ۔ ریاستی حکومت کا رول اس سلسلے میں انتہائی مجرمانہ ہے اور وہ اس جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے اس میں ہر حیثیت سے تعاون کررہی ہے ۔ گیلانی نے کہا کہ کوثر ناگ انتہائی بلندیوں پر واقع ایک آبی ذخیرہ ہے اور جس کا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اس کا نام کوثر صدیوں پرانا ہے اور اس کی مناسبت حوض کوثر کے ساتھ ہے اور ہندووں کا اس پر دعوی تاریخی حقائق کے منافی ہے۔گیلانی نے صاف طور پر واضح کیا کہ کوثر ناگ کو یاترا بنانے کے پیچھے مذہبی کے بجائے اصل میں سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت برادری کو بھارت کے آلہ کاروں کے طور کام کرنے کے بجائے کشمیرکی وحدت کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ جنونی فرقہ پرست قوتیں اس طرح کی مہم جوئی سے بھارتی عوام کو اصل میں یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ کشمیر کے ساتھ تعلق کی ان کے لئے ایک مذہبی حیثیت ہے اور یہ سیاسی سے زیادہ ایک مذہبی مسئلہ ہے، لہذا اس پر بھارت کا جبری قبضہ برقرار رکھا جانا ضروری ہے اور یہاں کے اکثریتی فرقے کی مسلم شناخت کی پرواہ کئے بغیر اس ریاست کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگا جانا ان کے لیے ایک قومی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے اپنے ایک بیان میں کوثر ناگ جیسے حساس ماحولیاتی علاقے کو سیاسی مذہبی جارحیت کے ذریعے تباہ کرنے کی کاوشوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے لوگوں خاص طور پر یہاں رہنے والے مسلمانوں نے ہمیشہ مذہبی رواداری، اخوت، بھائی چارے اور دوسروں کے مذہبی شعائر اور مقامات کی قدر کی ہے ۔ہم نے سخت تریں حالات میں بھی مذہبی انتہا پسندی اور نفرت کو پنپنے سے روکا ہے اور ایسے اوقات میں بھی کہ جب جموں کے فرقہ پرستوں نے ہمارے بچوں کیلئے دودھ اور مریضوں کیلئے ادویات تک کو روکاتھا امرناتھ یاتریوں کو اپنے گھروں کے اندر پناہ دی اور انہیں کھلاپلا کر انکی حفاظت کی ۔ ہمارے لئے یہ ہمارے دین کا سکھایا ہو اراستہ ہے اور ہم اپنے اس دینی و قومی ورثے کی ہمیشہ حفاظت کرتے رہیں گے لیکن اب جس بے ہنگم اور سازشی روش کے تحت نت نئے مقامات جن میں خاص طور پر ماحولیاتی طور پر حساس علاقے شامل ہیں کو یاترا کے نام پر تباہ کرنے کی کاوشیں شروع کی گئی ہیں وہ اس بات کا تقا ضا کرتی ہیں کہ ایسی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے ۔ ملک نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذہب کی آڑ میں سرزمین جموں کشمیر پر بھارتی تسلط کو دوام بخشنے نیز یہاں کے مسلمانوں اور پنڈتوں کو آپس میں گتھم گتھا کرکے یہاں کے خرمن امن کو آگ لگانے کی یہ بھارتی کاوشیں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور ان کے خلاف صف آرا ہوا جائے ۔ اس سلسلے میں لوگوں نے کوثر ناگ بچاو کمیٹی نام سے جو تحریک بپا کی ہے لبریشن فرنٹ اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبریشن فرنٹ نے اس سلسلے میںاپنی ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو عوامی سطح پر بننے والی کوثر ناگ بچاو کمیٹی سے ملے گی اور اس سلسلے میں ان کی جانب سے دئے جانے والے ہر پروگرام اور اقدام کی مکمل حمایت اور تعاون کے فیصلے سے انہیں آگاہ کرے گی۔ نیشنل فرنٹ چیئر مین نعیم احمد خان نے مقبوضہ کشمیر حکومت سے اس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ اس نے کوثر ناگ اور مچھیل جیسی ہندویاتراوں کی اجازت کس طرح دی حالانکہ ان یاتراوں کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں ہے بلکہ ان کا واحد مقصد کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کو مضبوط بنانا ہے ۔ خان نے کہاکہ یہ بھارت نواز لوگ اصل میں ہندو فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر یہاں کی اکثریتی آبادی کے دینی تشخص کو مٹانے کے درپے ہیں ، ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ ہندو یاتروں کی اجازت دینے کی جرات کس طرح کرتی ہے جبکہ اس سے یہاں کا ماحول بری طرح متاثر ہورہا ہے اور یہاں کے اکثریتی طبقے کی شناخت کو خطرہ لاحق ہورہا ہے ۔نعیم احمد خان نے کہا کہ یہ فرقہ پرست عناصر یہاں کے خرمن امن کو آگ لگانے کے درپے ہیں جس کی ساری ذمہ داری نئی دلی میں بیٹھے ہندو فرقہ پرستوں اور جموں کشمیر میں بیٹھے ان کے آلہ کاروں پر عائد ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ کوثر ناگ جیسی ہندو یاتراوں کے بارے میں ہندو سکالروں کو سوامی اگنی ویش کی طرح سٹینڈ لے کر ان کیخلاف آگے آنا چا ہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان دوسرے مذاہب کا احترام کرنا بخوبی جانتے ہیں مگر اپنے تشخص اور شناخت کی قیمت پر ہر گزنہیں اور اس ضمن میں ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا ۔حریت(ع(ترجمان نے کوثر ناگ کو یاترا کا مقام بنائے جانے پر شدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے اس قسم کے فیصلے کو کشمیری عوام کے مفادات کے خلاف ایک اور جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چہ ہم ہمیشہ مذہبی روا داری اور کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی اور ان کے مذہبی مقامات کو تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی کے قائل رہے ہیں لیکن کچھ غیر ریاستی فرقہ پرست قوتیں ہندووں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی آڑ میں یہاں کے سیاحتی مقامات کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کی خاطر استعمال میں لانے کے لئے یہاں کی صدیوں کی مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو زک پہنچانے کے ساتھ ساتھ یہاں کی مخصوص تہذیبی شناخت اور کلچر کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہاں کے ریاستی حکمران کشمیری عوام کے مفادات جذبات اور احساسات کو تحفظ فراہم کرنے بجائے فرقہ پرست قوتوں کی خوشنودی کے لئے نہ صرف اس یاترا کی پشت پناہی کر رہے ہیں بلکہ یہاں کی صورتحال کو جان بوجھ کر بدامنی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ یہاں کے ماحولیات اور آبی ذخائر کو جو انسانی زندگی اور یہاں کی زمینوں کی سیرابی کا ذریعہ ہیں کو تباہ کرنے کی کوئی بھی کوشش سنگین نتائج کی حامل ثابت ہوسکتی ہے ۔ nt/shj/qa

Archives