کشمیری پنڈت تنظیموں کے وفود نے بھارتی وزیر داخلہ جتندر سنگھ سے ملاقا تیں

نئی دہلی(کے پی آئی)کشمیری پنڈت تنظیموں کے وفود نے بھارتی وزیر جتندر سنگھ سے ملاقا تیں، جنوبی کشمیر کے کولگام علاقہ میں کوثر ناگ یاترا کی اجازت کے لئے بھارتی حکومت کی مداخلت طلب کی ہے ۔ آل پارٹیز مائیگرنٹ کمیٹی اور کشمیری کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی حکومت پر یاترا کی اجازت منسوخ کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ ریاستی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ یاترا کے لئے کوئی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی جسے منسوخ کرنے کی نوبت آتی۔ مائیگرنٹ کمیٹی کے مطابق حریت کانفرنس جیس کے دباو میں آکر یاترا کی اجازت منسوخ کئے جانے سے ہندوؤں اور کشمیری پنڈتوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔بھارتی وزیر جتندر سنگھ ے وفد کو بتایا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ عقائد کے معاملے میں حکومت کی طرف سے مداخلت نہیںہونی چاہئے بلکہ اس کے برعکس حکومت کو یاترا کے لئے ہر ممکن سہولیات پہم رکھنی چاہئیں۔ وزیر مملکت برائے دفتر وزیر عظم و سا ئنس و ٹیکنالوجی کے مطابق یہ پیغام باہر گیا ہے کہ یاترا کو مخصوص و جوحات اور دباو میں آکر منسوخ کیا گیا ہے لہذا وہ کشمیری پنڈتوں کی پیش کردہ یاداشت وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو پیش کر کے اس پر مناسب کاروائی کرنے کے لئے کہیں گے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کرے اور یہ بات یقینی بنائے کہ جموں و کشمیر میں کوئی فرقہ ورانہ یا سماجی انتشار پیدا نہ ہو ۔ ادھرمقبوضہ کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجوزہ کوثر ناگ یاترا کی کوئی اجازت نہیں دی ہے۔ وزیر سیاحت غلام احمد میر نے کہا ہے کہ ہم نے کوثر ناگ علاقہ میں کسی بھی قسم کی یاترا کی اجازت نہیں دی ہے لہذا اسکی منسوخی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکہ میںمقیم کشمیری پنڈتوں کی تنظیم کشمیر اور سینر ایسوسی ایشن انکارپوریشن نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے نام ارسال کردہ خطوط میں کوثر ناگ یاترا پر مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یاترا کی فوری اجازت دی جانی چاہئے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈت تاریخی اعتبار سے کشمیر کی ماحولیات کے محافظ رہے ہیں اور چشموں دریاوں اور پہاڑوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ جبکہ اسکے برعکس کشمیری پنڈتوں کے مخالف عناصر نے گذشتہ چند دہائیوں میں اپنی غیر قانونی سرگرمیوں سے ماحولیات کو جس پیمانے پر تباہ کیا گیا ہے وہ یہ نہیں چاہتے کہ کشمیر ی پنڈت اسے منظر عام پر لائیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یاترا کی فوری اجازت دی جانی چاہئے ۔ وزیراعظم کے نام خط تنظیم کے صدر ڈاکٹر سریندر کول نے بھیجا ہے۔ تنظیم نے معاملہ امریکی وزارت خارجہ اور دنیا کی ہندو، یہودی اور بقول اکے جدت پسند مسلم تنظیموں کے ساتھ بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ nt/shj/qa

Archives