مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ کوثر ناگ یاترا کے خلاف مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ کوثر ناگ یاترا کے خلاف مکمل ہڑتال

سرینگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ کوثر ناگ یاترا کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی ،جس دوران نوہٹہ،سوپور ، بانڈی پورہ،پلہالن اورترال میں احتجاجی نوجوانوں اور فورسز کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لگام میں چوتھے روز بھی احتجاجی ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی ۔اس دوران پولیس نے حریت پسند لیڈروں کو گھروں میں نظر بند کیے رکھا جبکہ کئی رہنماؤں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی اور حریت(جے کے)نے کوثر ناگ مجوزہ یاترا کے منصوبے کے خلاف ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی ۔ سرینگر میں پائین شہر کے پانچ پولیس تھانوں خانیار، نوہٹہ، رعناواری، صفاکدل اور مہاراج گنج کے حدود میں آنے والے علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی تھی ۔ ہڑتال کے دوران نوجوانوں نے احتجاجی جلوس نکا لے اورکوثر ناگ یاترا کے خلاف نعرے لگائے ۔احتجاجی نوجوانوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی نعرہ بازی کی ۔ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے بعد نوجوانوں نے پتھراو کیا ۔پولیس اور سی آر پی ایف نے مشتعل نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے جوابی پتھراو کے ساتھ ساتھ اشک آور گولے داغے ۔ کولگام، دمحال ہانجی پورہ،اہربل ،منزگام ،نور آباد ا اور ملحقہ علاقوں میں یاترا کیخلاف چوتھے روز بھی ہڑتال رہی جس دوران ان تمام قصبوں میں کاروباری و تجارتی ادارے بند رہے اور ٹریفک کی نقل و حرکت بھی معطل رہی کئی علاقوں میں جلوس نکالے گئے اور لوگوں نے یاترا کے منصوبے کے خلاف نعرے بازی کی۔کھڈونی اور کیموہ میں جلوس نکالا گیا جس میں شامل سینکڑوں لوگوں نے اسرائیل جارحیت کے خلاف نعرے لگائے اور کو ثر ناگ یاترا کے خلاف احتجاج کیا۔سوپور سے میں مین چوک تک جلوس نکالا گیاجس میں شامل لوگ اسرائیلی بربریت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے ۔بعد میں مشتعل نوجوانوں نے فورسز پر خشت باری کی اور پولیس نے انہیں منتشر کر نے کیلئے مرچی گیس کا استعمال کیا ۔قصبہ میں افرا تفری پھیل گئی اوراس کے ساتھ ہی مین چوک ،چھوٹا بازار ،بڑا بازار اور دیگر مقامات پر دکانیں بند ہوئیں جبکہ پتھراو کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔۔پلہالن پٹن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرینگر مظفر آباد شاہراہ کی طرف نکلنے کی کوشش کی اور جب پولیس نے انہیں روکا تو پولیس پر پتھراو کیا گیا۔اس موقعے پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہونے دی گئی۔ جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔بانڈی پورہ میں نوجوانوں نے ڈپٹی کمشنر رہائش گاہ کے نزدیک سی آر پی ایف کیمپ پر شدید پتھراو کیا جس کے دوران پولیس کو لاٹھی چارج کے ساتھ ساتھ ٹیر گیس کے گولے بھی داغنے پڑے۔مظاہرین نے بانڈی پورہ سرینگر شاہراہ پر رکاو ٹیں کھڑی کیں جس کے نتیجے میں ٹریفک کی نقل وحرکت معطل ہوکر رہ گئی اور افراتفری کے بیچ دکانیں اور کاروباری ادارے بھی بند ہوگئے ۔ بانڈی پورہ، حاجن ، نائد کھئے اور سمبل میں پر امن احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اسلام آباد میں جلوس برآمد ہوا اور کوثر ناگ یاترا کے خلاف نعرے لگائے گئے جبکہ عشمقام ،اچھہ بل ،بجبہاڑہ ،آورنی اور دیگر مقامات پر بھی نماز کے بعد احتجاج کیا گیا ۔شوپیان اور پلوامہ میں بھی احتجاج ہوا اور کوثر ناگ یاترا کے خلاف نعرے لگائے گئے۔شام دئر گئے بجبہاڑہ میں مشتعل نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ادھرحریت کانفرنس کے تینوں دھڑوںاور فرنٹ چیئرمین سمیت بیشتر حریت پسند کی قیادت کو گرفتاریا نظر بند کیا گیا تھا ۔ سید علی گیلانی مسلسل اپنے گھر میں نظربند ہیں میرواعظ عمر فاروق، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام ، ظفر اکبر بٹ ، جاوید احمد میر اور سید سلیم گیلانی کو نظر بندکیا گیا اور انجینئر ہلال احمد وار کو گرفتار کر کے مائسمہ تھانے میں مقیدرکھا گیا ۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو دوران شب اپنے گھر سے گرفتار کرلیا گیا ۔ پولیس اور فورسز کی بھاری نفری نے 31 جولائی اور یکم اگست کی درمیانی رات کو یاسین ملک کے گھر کو گھیرے میںلے لیا اور انہیں گرفتار کرکے تھانہ کوٹھی باغ میں مقید کرلیا ۔حریت کا نفرنس جے کے رہنما شبیر احمد شاہ کوبھی خانہ نظر بند رکھا گیا ہے ۔ پولیس نے تحریک حریت جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، محمد الطاف شاہ، محمد یوسف مجاہد، راجہ معراج الدین، ڈاکٹر غلام محمد گنائی کو بھی گھروں اور دفتر میں نظربندکردیا۔لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین شوکت احمد بخشی کو بھی انکے گھر واقع بمنہ پر خانہ نظر بند کیا گیا۔ حریت جے کے لیڈران محمد یاسین عطائی کوگر فتار کیا گیا جبکہ محمد یوسف نقاش کے گھر پر پو لیس نے چھاپہ ڈالا۔nt/shj/qa

Archives