کراچی میں بارش کے باعث مختلف واقعات میں 7افراد جاںبحق

کراچی میں بارش کے باعث مختلف واقعات میں 7افراد جاںبحق

کراچی(ثناء نیوز)کراچی میں بارش کے باعث مختلف واقعات میں 7افراد جاںبحق ہوگئے ہیں شدید بارش سے کراچی شہر جل تھل ہو گیا اور مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا جس کے باعث متعدد گاڑیاں خراب ہوگئیں تیز ہواؤں اور بارش کے باعث سائن بورڈ گر گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں ایف بی ایریاز نارتھ ناظم آباد لیاقت آباد نارتھ کراچی گلشن اقبال جیل چورنگی کھارا در میٹھا در اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش سے تار ٹوٹنے کے باعث 63 میں سے پانچ گرڈ اسٹیشن ٹرپ کر گئے ہیں ریسکیو ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی کے علاقے بفرزون اور مچھر کالونی میں کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ نیول کالونی میں گھر کی دیوار گرنے سے خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں خاتون اور ایک بچہ ہسپتال میں دم توڑ گیا دوسری جانب سائیٹ اور گلشن مراد میں دیوار گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ گورنر سندھ کی خصوصی ہدایت اور شہر میں جمع ہونے والے پانی اور نکاسی آب کے لیے سڑکوں پر نکلیں ہیں شہریوں نے اس موقع پر انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی نااہلی ہے کہ شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کے باعث لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ کئی روز سے جاری گرمی و حبس کا زور رات گئے اس وقت جاکر ٹوٹا، جب گرج چمک اور طوفانی ہواں کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔تیز ہواں کے باعث کئی علاقوں میں سائن بورڈز گرگئے اورشہرکی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، جبکہ مختلف علاقوں میں دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 7افراد ہلاک ہوگئے۔طوفانی بارش کے نتیجے میں آئی آئی چندریگر روڈ، گلشن اقبال، ملیر، ایئرپورٹ، لیاری اور اطراف کے علاقوں کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔کراچی کے علاقے بورڈ بیسن میں آندھی کے باعث دیو قامت سائن بورڈ گر گیا جبکہ بلدیہ کے علاقے نیول کالونی اور سائٹ ایریا میں گھر کی دیواریں گر نے سے 2 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، اس حادثے میں ایک بچے اور خاتون سمیت 3 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔آندھی کی وجہ سے شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کے تار ٹوٹ کر گرگئے، بارش کے باعث کے الیکٹرک کے کئی فیڈر جواب دے گئے جس سے شہر کے بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔موسلادھار بارش کی وجہ سے پورے کراچی میں بجلی کے بڑے بریک ڈان سے شہر کے بڑے حصے کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔کراچی میں بارش کے بعد کے-الیکٹرک کے بیس گرڈ اسٹیشن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ترجمان کے الیکٹرک اسامہ قریشی کا کہنا ہے کہ کراچی میں 1375فیڈرزکام کرتے ہیں، جن میں سے صرف 100فیڈرز نے ٹرپ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 35 فیڈرز پر کام جاری ہے اور بجلی کی بحالی میں کچھ وقت لگے گا۔اسامہ قریشی کے مطابق تیزہواں کی وجہ سے درخت گرتے ہیں جوتاریں ٹوٹنے کی وجہ بنتے ہیں اورزیادہ ترعلاقوں میں تاریں ٹوٹنے کے باعث ہی بجلی منقطع ہوئی۔کے-الیکٹرک کی انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ طوفانی ہواں کی وجہ سے ٹوٹ کر گرنے والے بجلی کے تاروں سے دور رہیں۔کمشنر کراچی شعیب صدیقی کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کے کونے کو نے کا دورہ کیا ہے، جہاں 60 سے65 فیصدصفائی کاکام مکمل کرلیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہرکیاکثرعلاقوں میں جہاں پہلے پانی کھڑا ہو جاتا تھا اب وہ جگہیں صاف ہیں۔تاہم کچھ علاقوں میں سڑکیں تالاب کامنظرپیش کررہی ہیں اورآئی آئی چندریگرروڈ اور اطراف میں پانی جمع ہے، جسے جلد صاف کرلیا جائے گا۔بارش کے باعث پاکستان نیوی کے اہلکاروں نے سی ویو پر ڈوبنے والے افراد کی تلاش کا کام بھی عارضی طور پر روک دیا ہے۔محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹے تک جاری رہیگا۔shj/ily

Archives