مقبوضہ کشمیر ، عوامی ردعمل کے بع نئی یاترا کوثر ناگ پر پابندی

مقبوضہ کشمیر ، عوامی ردعمل کے بع نئی یاترا کوثر ناگ پر پابندی

سری نگر(ثناء نیوز) مقبوضہ کشمیر میں عوامی ردعمل کے بعد حکومت نے مقامی ہندوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک نئی یاترا کوثر ناگ پر پابندی عائد کردی ہے۔ سید علی گیلانی نے حکومت کی اس پالیسی کے خلاف آج عام ہڑتال کی اپیل کی ہے کشمیر میں ہمالیہ کے پیر پنجال سلسلہ پر واقع خالص ترین پانی کا چشمہ کوثر ناگ سیاسی تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔25 سال قبل وادی چھوڑنے والے بعض کشمیری ہندوں نے، جنھیں پنڈت کہتے ہیں، اس چشمے پر سالانہ یاترا شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔تاہم شدید عوامی ردِ عمل کے باعث حکومت نے یاترا کے لیے دی گئی اجازت واپس لے لی اور جموں کے ریاستی ضلع سے کشمیری پنڈتوں کے جلوس کو ضلع کولگام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔اس یاترا کے خلاف ضلع کولگام کے افراد نے کوثر ناگ بچا ؤمحاذ قائم کیا اور ہزاروں افراد نے جمعرات کو کوثر ناگ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انھیں روک دیا۔اس موقع پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ھریت پسندوں نے ماحولیاتی طور حساس ترین جھیل کوثر ناگ کو ایک مذہبی مقام قرار دینے کی پالیسی کو اقتدار پرستی سے تعبیر کیا ہے۔حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی نے حکومت کی اس پالیسی کے خلاف آج عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ سول سوسائٹی نے بھی یاترا کے اس منصوبے کو آر ایس ایس کے نظریاتی عزائم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت مذہبی امور کی پشت پناہی کر کے تشدد کو ہوا دے رہی ہے۔کولیشن آف سول سوسائیٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں کہ یہ کوئی مذہبی یاترا نہیں، یہ حکومتِ ہند کا ایک عسکری اور سیاسی منصوبہ ہے۔ وہ لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ ہم لوگ مذہبی رسوم کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم لوگ جنگلی حیات اور ماحولیات کے خلاف سازش کی بات کرتے ہیں۔خرم پرویز کا مزید کہنا ہے کہ کوثر ناگ کولگام، شوپیان اور پلوامہ کے لیے پانی کا ذریعہ ہے اور اگر یہاں کے قدرتی وسائل میں بھاری پیمانے پر انسانی مداخلت ہوئی تو کشمیریوں کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔تاہم کشمیری پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کوثر ناگ یاترا کوئی نئی بات نہیں اور اس چشمے پر مسلح تحریک شروع ہونے سے قبل کشمیری پنڈت پوجا کرتے رہے ہیں۔کوثر ناگ سرینگر سے جنوب کی جانب ہمالیہ پہاڑوں کے پیر پنجال سلسلہ میں 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں کے آہار بل علاقے کا آبشار یا واٹرفال پوری دنیا میں مشہور ہے۔nt/shj/qa

Archives