امریکہ اوربھارت کا لشکرِ طیبہ اور القاعدہ کو منتشر کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد

امریکہ اوربھارت کا لشکرِ طیبہ اور القاعدہ کو منتشر کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد

نئی دہلی(ثناء نیوز)امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات،دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ نئی دلی میں ہونیوالی اس ملاقات میں جان کیری نے میزبان وزیر اعظم پر زور دیا کہ بھارت ڈبلیو ٹی او کی مخالفت ترک کردے، امریکی وزیر خارجہ نے نریندر مودی کو یقین دلایا کہ وہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات کو تاریخی موڑ دینا چاہتے ہیں تاکہ دونوں ممالک یکسوئی کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرسکیں۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے 3روزہ دورہ بھارت کے اختتام پر جاری ہو نے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق بھارت کے ساتھ یکجہتی کا ایک بڑے مظاہرے کے طور پر لشکرِ طیبہ کا القاعدہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے دونوں کو منتشر کرنے کے لیے امریکا نے بھارت کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے ممبئی دہشت گرد حملوں کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پاکستان پر زور دیا ہے ۔ امریکی سیکریٹری دفاع ہیگل اگست 2014 میں نئی دہلی کا دورہ کریں گے ۔اسی بیان میں واشنگٹن نے نئی دہلی کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاح کا منتظر ہے، جس میں بھارت کی مستقل رکنیت بھی شامل ہے۔دونوں اتحادیوں کا کہنا تھا کہ انہیں دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے اور وہ اس سے مقابلے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تیز کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔انہوں نے تباہ کن ہتھیاروں کے پھیلا، نیوکلیئر دہشت گردی اور سرحد پار جرائم کے خاتمے اور انٹرنیٹ کے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد بھی کیا۔دہلی میں منعقدہ امریکا اور ہندوستان کے پانچویں اسٹریٹیجک مذاکرات کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔امریکی سیکریٹری اسٹیٹ جان کیری اور بھارت کی وزیرِ خارجہ ششما سوراج نے اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ان مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نومبر 2008 کے ممبئی حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔انہوں نے دہشت گردی کی تمام قسموں کے لیے اپنی مذمت کو بھی دہرایا اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے خاتمے اور القاعدہ اور لشکرطیبہ سمیت دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی تباہی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔امریکی سیکریٹری برائے کامرس پینی پرٹزکر جان کیری کے ہمراہ تھے۔ ان کے وفد میں توانائی، ہوم لینڈ سیکورٹی کے امریکی محکموں اور ناسا کے حکام شامل ہیں۔نریندر مودی کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی کابینہ کی سطح کا یہ نئی دہلی کا پہلا دورہ ہے۔یاد رہے کہ گجرات میں مسلم مخالف فسادات میں نریندرا مودی کے مبینہ طور پر ملث ہونے کی وجہ سے اس سے پہلے امریکا نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا، لیکن اس کی پالیسی میں نریندرا مودی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد تبدیلی آگئی ہے۔مذاکرات کے موقع پر دونوں فریقین نے تسلیم کیا کہ مودی کے فیصلہ کن مینڈیٹ نے ہندوستان اور امریکی تعلقات میں نئے سرے سے جان ڈالنے کا منفرد موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا کہ اس سال ستمبر کے دوران واشنگٹن میں وزیراعظم مودی اور امریکی صدر براک اوباما کے درمیان ملاقات سے تعلقات میں نئی تحریک پیدا ہوگی۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکریٹری دفاع ہیگل اگست 2014 میں نئی دہلی کا دورہ کریں گے، جس کے دوران وہ فوجی مشقوں، دفاعی تجارت اور دفاع کے لیے نئی ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار اور مشترکہ ترقی و ریسرچ پر تبادلہ خیال کریں گے۔shj/ILY

Archives