ہیپاٹائٹس خاموش قاتل ، ہر دسواں پاکستانی مرض کا شکار

لاہور (ثناء نیوز) پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو انٹرالوجی کے عہدیدار اور پی جی ایم آئی و لاہور جنرل ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرارالحق طور نے کہا کہ ہر دسواں پاکستانی ہیپاٹائٹس کا مریض ہے یہ خاموش قاتل مرض جس سے خبردار رہنے کے لیے تمام لوگوں کو ہیپاٹائٹس کا ٹیسٹ ضرور کرانا چاہیے۔ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی وجوہات کے بارے میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ شعور اور آگہی کی فراہمی وقت کا اہم ترین تقاضا بن گیا ہے۔ ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں چھ سے سات فیصد لوگ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی شرح 2.5فیصد ہے۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس وقت تمام ممالک میں مجموعی طور پر ہیپاٹائٹس اے کے 1.4 ملین اور بی کے 2بلین ہیں اور ہیپاٹائٹس سی میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ مبتلا ہیں۔ ڈاکٹر اسرارالحق طور نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی جگر کے سکڑنے کی بیماری سرہوسس اور جگر کے کینسر کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ بی اور سی سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہیپاٹائٹس کے وائرس کی پانچ اقسام ہیں۔ اے، بی، سی ، ڈی اور ای ہیں۔انہوں نے کہاکہ آلودہ پانی اور ناقص خوراک ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلنے کی بڑی وجہ ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی استعمال شدہ سرنج و خون کی منتقلی کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ خواتین میں ہیپاٹائٹس کی بڑی وجوہ میں بیوٹی پارلر کا کردار اہمیت کا حامل ہے جبکہ مردوں میں غیر معیاری ہیئرڈریسز یا حجام ہیپاٹائٹس پھیلانے کی اہم وجہ ہیں۔ ہیپاٹائٹس کی بیماری، خون، اس کی مصنوعات کے تبادلے اور استعمال شدہ سرنج یا مشترکہ انجکشن، شیونگ بلیڈ، ناک یا کان چھیدوانے والے آلودہ اوزار، بیوٹی و ڈینٹل اور دیگر سرجری آلات کا جراثیم سے پاک کیے بغیر استعمال کرنے سے پھیلتا ہے۔ڈاکٹر اسرارالحق طور نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین موجود نہیں جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے ٹیکے مارکیٹ میں موجود ہیں اور ہر صحت مند شخص کو یہ ٹیکے ضرور لگانے چاہیے۔ حاملہ خواتین کو ہیپاٹائٹس بی اور سی کے لیے اپنا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے یہ مرض پیدائش کے دوران ماں سے بچے میں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ معاشرے میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کی وجوہات کے بارے میں ہر شخص کو شعور و آگہی بہت ضروری ہے اور اس کے لیے حکومت کے علاوہ معاشرے کے تمام مؤثر طبقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔#

Archives