ملک بھر میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز ہو گیا

ملک بھر میں یوم آزادی کی مناسبت سے تقریبات کا آغاز ہو گیا

اسلام آباد(ثناء نیوز) ملک بھر میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے جو یکم اگست سے شروع ہو کر 31 اگست تک جاری رہے گا تقریبات کا باقاعدہ آغاز نماز جمعہ کے خطبات میں ملکی سلامتی اور خوشحالی کی دعاؤں سے ہوا 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب اسلام آباد میں پریڈ اور فلائی پاسٹ ہو گا جس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے یوم آزادی کی مرکزی اور روایتی تقریب میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مدعو کیا جائے گا۔آزادی ٹرین چلائی جائے گی جو 11 اگست کو پشاور سے روانہ ہو کر 11 ستمبر کو کراچی پہنچے گی۔آزادی تقریبات کے تحت قومی پرچم لہرانے کی تقریب کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جائے گا اور تقریبات کو آزادی کا اہم جزو شہداء پاکستان کے مزارات پر حاضری ہو گا ملک بھر میں آزادی واک کا اہتمام بھی کیا جائے گا اور آزادی کی تقریبات کے حوالے سے کھیلوں کے خصوصی مقابلے منعقد کیے جائیں گے ۔ملک بھر کی طرح ملک بھی یوم آزادی کی تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے۔اس حوالے سے لاہور میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا زندہ دلانہ لاہور نے مزار اقبال احاطے اور بادشاہی مسجد کے سائے تلے ایک خوبصورت اور رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا تقریب کو صبح 9 بچے شروع ہونا تھا مگر اس میں شرکت کے لیے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد صبح 7 بجے ہی پہنچنا شروع ہو گئے یوم آزادی کی تقریباپنے جوبن پر تھی طالب علم ملی نغموں سے دلوں کو گرما رہے تھے کہ بارش نے آ لیا تاہم موسلادھار بارش بھی عوام کے جوش و جذبے کو ٹھنڈا نہ کر سکی اور وہ اسی جذبے سے ملی نغمے پیش کرتے رہے اس موقع پر فضاء اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں اور اس طرح کے دوسرے ملی نغموں سے گونجتی رہی تقریب میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق رکن قومی اسمبلی پرویز ملک اور صوبائی اسمبلی کے ارکان سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ عوامی نمائندوں نے مفکر پاکستان علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ۔انہوں نے شاعر مشرق کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔ شدید بارش کے باوجود یوم آزادی کی تقریب 3 گھنٹے سے زائد جاری رہی سبز ہلالی پرچم اٹھائے ہونٹوں پر تبسم سجائے تقریب کے شرکاء نغمہ سناتے رہے ۔لاہور میں گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر قومی پرچم لہراتے جا رہے ہیں ہر کوئی ارض پاک پر واری جا رہا ہے وطن عزیز کے ساتھ چاہتوں کے اظہار کا یہ سلسلہ31 اگست تک جاری رہے گا۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے دھرنے دے کر اس کے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کی جائیں قوم کی تقدیر کے فیصلے چوراہوںپر نہیں ہوتے اس کا جمہوری طریقہ ہے مسلح افواج ملکی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے یہ وقت آپس میں لڑنے کا جھگڑنے اور دھرنے دینے کا نہیں متحد ہونے کا ہے عمران خان کو کوئی اعتراض ہے تو وہ بات چیت کے ذریعے ختم کریں ہم بات چیت کے لیے ہروقت تیار ہیں عمران خان طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم سے کیوں نہیں کیا ہم طالبان سے بھی گئے گزرے ہیں ہم معاملات سڑکوں کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور اس معاملے کو سلجھانے کے لیے دیگر سیاستدانوں کو بھی شامل کریں گے ہمارے بات چیت کے اس جذبے کو ڈیل نہ سمجھا جائے لاہور میں مزار اقبال پر یوم آزادی کی تقریبات کے آغاز کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگرچہ عمران خان کے ہمارے ساتھ سیاسی معاملات ہیں مگران معاملات کو چوک و چوراہے میں حل کرنے کی بجائے میز پر بیٹھ کر حل کرنے چاہیں خواجہ سعد نے کہا کہ ہمارے بات چیت کے اس جذبے کو ڈیل نہ سمجھا جائے انہوں نے کہاکہ قوموںکی تقدیر کے فیصلے چوراہوں پرنہیں ہوتے اسکا جمہوری طریقہ ہے تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے سیاست میں مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں حکومت عمران خان کے ساتھ ایک ماہ سے رابطے میں ہے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یوم آزادی کی 30روزہ تقریبات کا آغاز کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف کے سربراہ سے پچھلے ایک ماہ سے رابطہ میں ہیں اعلیٰ سطحی رابطہ قائم کیا گیا ہے حکومت کوشش کر رہی ہے اور کرتی بھی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رہیں گی کہ ہم بات چیت کے ذریعے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے ساتھ معاملات کو حل کریں عمران خان طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم سے کیوں نہیں ہم معاملات سڑکوں کی بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور اس معاملے کو سلجھانے کے لیے دیگر سیاستدانوں کو بھی شامل کریں گے ہم مارچ کے مسئلے کو سیاسی برادری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں گے کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ دھرنوں سے حل نہیں ہوگا بات چیت ہی اس کا واحد راستہ ہے پاکستان کی بہتری کے لیے آپس میں بات چیت کوئی بری بات نہیں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے ایک دوسرے کو دھمکیاں نہیں دینی چاہیں اگر ہمارے درمیان کچھ سیاسی اختلافات ہیں تو اس کا سیاسی حل ہی تلاش کرنا چاہیے اگر عمران خان کے کچھ اعتراضات ہیں تو بتائیں دھرنے دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہم سب اس دھرتی کے باشندے ہیں ہم ایک دوسرے کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں ایک دوسرے سے بات چیت ہی کرنی پڑے گی ہم بات چیت کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔arg/md/shj/ily

Archives