کراچی کے ساحل پر ڈوبنے والے 36 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

کراچی کے ساحل پر ڈوبنے والے 36 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

کراچی(ثناء نیوز)کراچی کے ساحل پر ڈوبنے والے 36 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ مزید لاشوں کی تلاش جاری،24لاشوں کی شناخت کر لی گئی تفصیلات کے مطابق کراچی کے ساحل پر ڈوبنے والے افراد کی لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے اب تک نکالی جانے والی لاشوں کی تعداد اب 36 ہوگئی ہے۔جمعہ کی صبح مزید لاشوں کی تلاش کے لیے ایک مرتبہ پھر آپریشن شروع کیا گیا ، جس میں پاکستان نیوی کے ہیلی کاپٹرز نے بھی حصہ لیا ہے ۔ڈوبنے والے افراد کے اہل خانہ کی بھی ایک بڑی تعداد اس وقت بھی ساحل پر موجود ہے، جن کی مدد سے باقی لاشوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والے 36 میں سے چوبیس کی شناخت کرلی گئی جبکہ12 کی شناخت باقی ہے۔ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد سمندر میں نہانے والے کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ایس پی کلفٹن محمد اسد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تیس لاشیں نکالی جاچکی ہے۔ جس میں چوبیس کی شناخت کرلی گئی ہے۔ لواحقین کی سہولت کے لئے جناح اسپتال میں پولیس کا کیمپ بھی قائم کردیا گیا ہے۔ایس پی کلفٹن کا کہنا ہے کہ ہماری اطلاعات کے تحت مزید دو سے تین افراد لاپتہ ہیں۔محمد اسد کا کہنا ہے کہ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد کسی کوبھی سمندر میں نہانے کی اجازت نہیں،حکم کی خلاف ورزی پر اب تک بائیس افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ،ایس پی کلفٹن محمد اسد کا کہنا ہے کہ پولیس لواحقین کی ہر ممکن مدد فراہم کرے گیدوسری جانب وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ سی ویو میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔جبکہ وزیر اعلی ہاس میں ہونے والی عید ملن کی تقاریب بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سانحہ سی ویو انتظامیہ کی غفلت ہے، آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،ساحل سمندر پر قائم امدادی کیمپ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سانحہ سی ویو پر ایم کیوایم رابطہ کمیٹی ورثا سے تعزیت کرتی ہے، کسی پر الزام تراشی کے بجائے سب کو اپنے فرائض انجام دیناچاہئیں ۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کی جان قیمتی ہے، سب کو ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔shj/ily

Archives