اسرائیل نے جنگ بندی چار گھنٹے بعد توڑدی،مزید 40فلسطینی شہید

اسرائیل نے جنگ بندی چار گھنٹے بعد توڑدی،مزید 40فلسطینی شہید

غزہ(ثناء نیوز)اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی چار گھنٹے بعد ختم کر کے غزہ پر جارحیت کی انتہاء کر دی ہے عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیل کے تازہ حملوں سے مزید 40فلسطینی شہید اور 200سے زائد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے اسرائیل کے ان تازہ حملوں سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 65 بتائی ہے جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے 72گھنٹے کی طے شدہ جنگ بندی صرف چار گھنٹے جاری رہ سکی اور اسرائیلی فوج نے بربریت کی انتہا کر دی ہے عرب ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کی غزہ پر فضائی بمباری سے مزید 40فلسطینی بری طرح جھلس کر شہید اور 200سے زائد زخمی ہوگئے ہیں 25 دن سے جاری اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد1500ہو گئی ہے اسرائیل کی جانب سے ظلم کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا غزہ کے جنوبی علاقے میں اسرائیل کی جانب سے شدید بمباری کی جا رہی ہے ٹینک اور فضائیہ استعمال کی جا رہی ہے 72 گھنٹے کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا مگر اسرائیل نے 4گھنٹے بعد ہی اس معاہدے کی دھجیاں اڑا دی ہیں جنگ بندی کے دوران اجڑے فلسطینیوں کے لیے امدادی کارروائیاں ہوئی تھیں علاقہ مکینوں کو خوراک پہنچائی جانی تھی شہید فلسطینیوں کی تدفین ہوئی تھی مگر اسرائیل کو یہ سب کچھ منظور نہ ہوا مگر اسرائیل نے جنگ بندی توڑ کر ایک بار پھر آگ اور خون کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ اس سے پہلیغزہ(ثناء نیوز)اسرائیل اور حماس نے تین دن کے لیے فائربندی پر اتفاق کیا تھا ۔ عارضی فائر بندی کی مدت عالمی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے شروع ہو ئی۔ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی اس عارضی جنگ بندی کا اعلان امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری اور اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون کے ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا تھا۔ بھارت کے دورے پر گئے ہوئے جان کیری نے مزید کہا ہے کہ اس دوران اسرائیلی فوج غزہ میں سرنگوں کے خلاف اپنا دفاعی آپریشن جاری رکھیں گی۔ بیان کے مطابق، جنگ بندی کے دوران فورسز اپنی جگہ پر رہیں گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کی زمین فوج واپس نہیں جائیں گی۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشرق وسطی کے لیے یو این کے سفیر رابرٹ شیری کو تمام فریقین سے یقین دہانیاں ملی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم تمام فریقین پر زور دیں گے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی شروع ہونے تک تحمل کا مظاہرہ کریں۔’یہ سیز فائر معصوم شہریوں کو جاری تشدد سے ریلیف دینے میں انتہائی اہم ہے ۔بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیلی اور فلسطینی وفد فوری طور پر قاہرہ جائیں گے تاکہ پائیداد جنگ بندی کے لئے مصری حکومت سے مذاکرات کئے جا سکیں۔دریں اثنا غزہ پٹی میں گزشتہ چوبیس روزہ اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 14 سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اسرائیل کے بھی پچاس سے زائد فوجی مارے جا چکے ہیںخیال رہے کہ آٹھ جولائی سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت میں اب تک 1427 فلسطینی ہلاک جبکہ تقریبا سات ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اٹھارہ لاکھ آبادی والے غزہ میں ایک چوتھائی بے گھر ہوئے، جن میں سے دو لاکھ بیس ہزار یو این کے مختلف مراکز میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔اس تنازعے میں یو این کے آٹھ ملازمین بھی اپنی جانوں سے گئے۔حماس اور اسرائیل کے عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اس دوران فوجیں اپنی جگہ پر رہیں گی۔انھوں نے کہا کہ ہم فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی جنگ بندی شروع ہونے تک تحمل سے کام لیں اور جنگ بندی کے دوران اپنے وعدوں پر مکمل طور پر قائم رہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی بیگناہ شہریوں کو جنگ انتہائی ضروری وقفہ فراہم کرنے لیے بے حد لازمی ہے۔ جنگ بندی کے دوران غزہ کے شہریوں کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی اور مردوں کو دفنانے، زخمیوں کی دیکھ بھال کرنے اور خوراک حاصل کرنے جیسے ضروری کام کرنے کا موقع ملے گا۔اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نیوی پلے نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری فوجی کارروائی کے دوران جان بوجھ کر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو سکولوں، ہسپتالوں، گھروں اور اقوامِ متحدہ کی عمارات پر حملے کرنے پر ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا مرتکب قراد دیا جانا چاہیے۔اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نے امریکہ کو اسرائیل پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے پر ناکامی، غزہ میں جاری لڑائی کو رکوانے اور اسرائیل کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے سربراہ کرس گِنیس کا کہنا ہے کہ ڈھائی لاکھ فلسطینی پناہ گاہوں کے متلاشی ہیں۔shj/ILY

Archives