امریکہ کا نجی شعبہ بھارت کی معاشی ترقی کو تیزی دینے کے لیے تیار ہے، جان کیری

امریکہ کا نجی شعبہ بھارت کی معاشی ترقی کو تیزی دینے کے لیے تیار ہے، جان کیری

نئی دہلی (ثناء نیوز)امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بھارت کے 3روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے جان کیری نے اپنے تین روزہ دورہ بھارت کے پہلے دو دن نئی دہلی میں بھارتی حکومت کے نمائندوں اور اعلی سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں۔ کیری کے اس دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئی جان ڈالنے اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ آج جمعے کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے، جو اس عہدے تک پہنچے سے پہلے تک امریکی پابندیوں کا نشانہ رہ چکے ہیں۔ جان کیری بھارت میں اپنے قیام کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں پر بھی بات کریں گے ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے ترقی کے ایجنڈے میں امریکہ ان کا بھرپور ساتھ دے گا۔ اپنے دورے کے حوالے سے جان کیری نے کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مستقبل کو ایک راستے پر لانے کا موقع ہے۔جان کیری نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک ایسے مقام تک لے جانے کی بات کی ہے جہاں دونوں ہی صحیح معنوں میں ایک دوسرے کے شریک کار بن سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کی سب کا ساتھ، سب کا ترقی کی پالیسی میں ہم ساتھ دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ بے حد اچھی پالیسی ہے۔ امریکہ کا نجی شعبہ بھارت کی معاشی ترقی کو تیزی دینے کے لیے تیار ہے۔کیری کا کہنا ہے کہ بھارت کی معاشی ترقی خطے کے لیے بھی اچھی خبر ہے اور اس معاملے پر ان کی پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے بھی بات ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تجارت میں اضافہ دونوں ہی ملکوں کے فائدے میں ہے، دونوں کے عوام کے فائدے میں ہے اور امریکہ اس میں ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔بھارت میں ہر گھر میں بجلی پہنچانے کا اعلان ہو، نوجوانوں کو نئے موقع دینے کا وعدہ ہو یا پھر موسم میں تبدیلی کی بحث ہو، کیری نے مودی کی ہر کوشش میں ساتھ دینے کی بات کی۔کیری کا کہنا تھا کہ انھوں نے زعفرانی انقلاب کی بات کی ہے، اور زعفرانی رنگ توانائی کا رنگ ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ یہ انقلاب صاف ستھری توانائی کے ذریعے آنا چاہیے۔ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اور امریکہ اس معاملے پر مکمل طور سے بھارت کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔لیکن امریکی بھارتی تعلقات کی دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ دونوں ہی ملک بہت سے معاملات پر، خاص کر تجارت کے مسائل پر، ٹیبل کے آر پار بیٹھے نظر آتے ہیں۔ورلڈ ٹریڈ آرگنائیزیشن کی پیچیدگیاں ہوں، انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی بات ہو، سبسڈی کا معاملہ ہو، ان سب پر دونوں کے درمیان سخت بحث چل رہی ہے۔جان کیری کا کہنا تھا کہ ان معاملات پر اگر بھارت لچک دکھائے، غیر ملکی سرمایہ اری کے لیے ماحول تیار کرے تو امریکی کمپنیاں وہاں سرمایہ اری کی دوڑ لگا دیں گی۔امریکہ بھارت کو ایشیا میں چین کے خلاف ایک طاقتور اتحادی ملک کی طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ وہیں امریکی کمپنیاں بھارت کو ایک بڑے بازار کی طرح دیکھ رہی ہے لیکن وہاں اسے کئی راوٹیں نظر آ رہی ہیں۔مودی نے بھی ابھی تک کھل کر اپنی امریکی پالیسی واضح نہیں کی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ستمبر میں اوباما کے ساتھ ہونے والی ان کی ملاقات کافی حد تک یہ تعلقات کا مستقبل طے کرے گی۔دونوں ہی ممالک کے سامنے فی الحال چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک ایسا فارمولا پیش کر سکیں جس میں دونوں ہی کا فائدہ نظر آئے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں ابھی شاید وقت لگے گا۔SHJ/ILY

Archives