نریندر مودی مسلمانوں سے متعلق حالیہ متنازعہ واقعات پر خاموش

نریندر مودی مسلمانوں سے متعلق حالیہ متنازعہ واقعات پر خاموش

نئی دہلی (ثناء نیوز)بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلمانوں سے متعلق حالیہ متنازعہ واقعات پر خاموش رہنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی اس خاموشی سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو گا۔ یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ مودی کی حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے حامی مذہبی ہم آہنگی میں رخنہ ڈال دیں گے۔رواں ہفتے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں بی جے پی کی اتحادی جماعت شیو سینا کے ایک رکن اسمبلی راجن وچار کو ایک مسلمان کیٹرر کے منہ میں زبردستی نوالہ ٹھونستے ہوئے دیکھا گیا جو روزے سے تھا۔راجن وچار نے بعدازاں کہا کہ وہ کیٹرر کی مذہبی شناخت اور اس کی روزے کی حالت سے واقف نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو صرف یہ بتایا چاہتے تھے کہ کھانا کتنا برا ہے۔اس واقعے کے ردِ عمل پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی جس کے نتیجے میں بی جے پی کے ایک رکن نے یہ مطالبہ کر ڈالا کہ اپوزیشن کے بعض سیاستدانوں کو پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے۔ بعدازاں اس رکن نے اپنے اس بیان پر معذرت کر لی۔بی جے پی کے ہی ایک اور سیاستدان کے لکشمن نے مسلمان ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کی قومی شناخت پر بھی سوال اٹھایا جبکہ وزیر اعظم کے ایک اتحادی نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ مودی کی قیادت میں بھارت ایک ہندو ملک بن سکتا ہے۔کے لکشمن نے ثانیہ مرزا کو ریاست تلنگانہ کی خیرسگالی سفیر مقرر کیے جانے پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ثانیہ پاکستان کی بہو ہیں اور وہ تلنگانہ کی شناخت بننے کی اہل نہیں۔ ثانیہ مرزا پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ ہیں۔ متعدد تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ان واقعات پر ردِ عمل ظاہر کرنے میں مودی کی ناکامی سے ان کی جماعت اور اس کی اتحادی دیگر تنظیموں کے کارکنوں کی جانب سے جارحانہ رویوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اپنے اداریے میں لکھا ہے: وزیر اعظم کو ایسے بیانات کے خلاف کھل کر سامنے آنا ہو گا تاکہ اقلیتوں کو یقین دلایا جا سکے کہ ان (مودی) کی حکومت کے خلاف ان (اقلیتوں) کے تحفظات بیجا ہیں ۔ ان کی خاموشی سے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہی ہو گی۔بھارت میں بدترین مذہبی فسادات ہوتے رہے ہیں، بالخصوص ہندو اکثریت اور مسلمانوں کے درمیان۔ وہاں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ سو ملین سے زائد ہے۔بی جے پی انتخابات میں زبردست کامیابی کے نتیجے میں مئی میں اقتدار میں آئی۔ اس جماعت نے معیشت کی بحالی کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا۔تاہم انتخابی مہم میں بھارت کی اکثریتی ہندو شناخت کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔nt/ah/jk

Archives